غسلکےمسائل
ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنا مکروہ ہے
سوال:۔
پانی ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا غلط ہے، چاہے وہ وضو میں کیوں نہ ہو، تو جناب آپ یہ بتائیں کہ کیا بڑے سائز کی چار بالٹی پانی سے غسل کرنا قرآن و حدیث کی روشنی میں دُرست ہے یا نہیں؟ جبکہ وہی شخص ایک بالٹی پانی سے اچھی طرح غسل کرسکتا ہے۔
جواب:۔
پاک ہونے کے لئے تو تقریباً چار سیر پانی کافی ہے، جسم کی صفائی یا ٹھنڈک حاصل کرنے کی نیت سے زیادہ پانی کے استعمال کا مضائقہ نہیں،(۱) بلاضرورت زیادہ پانی استعمال کرنا مکروہ ہے۔(۲)
- (۱) وعن أنس قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع إلٰی خمسۃ امداد۔ متفق علیہ۔ (مشكوٰۃ ص:۴۸، باب الغسل)۔
- (۲) ویكرہ للمتوضی ستۃ أشیاء: الْإسراف فی الماء۔ (نور الْإیضاح ص:۳۴، فصل فی المكروھات ’’وكرہ فیہ ما كرہ فی الوضوء أیضًا‘‘ ص:۳۹ فصل فی آداب الْإغتسال)۔ مما ورد فی الخبر شرار اُمّتی الذین یسرفون فی صب الماء وفی الدرر ویكرہ الْإسراف فیہ تحریمًا لو بماء النھر أو المملوك لہ۔ (مراقی الفلاح ص:۴۵، میر محمد کراچی)۔

