بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

ٹرین میں غسل کیسے کریں؟

سوال:۔

گزارش ہے کہ کراچی سے لاہور بذریعہ ٹرین آتے ہوئے رات غسل کی حاجت پیش آگئی، جس سے کپڑے بھی خراب ہوگئے، براہِ کرم تحریر فرمائیں کہ بقیہ سفر میں فرض نماز کی ادائیگی کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ ٹرین میں پانی وضو کی حد تک تو موجود ہوتا ہے، غسل کے لئے نہ تو پانی میسر ہوتا ہے اور نہ ہی غسل کرنا ممکن ہوتا ہے۔

جواب:۔

عموماً ٹرین میں اتنا پانی موجود ہوتا ہے، لیکن بالفرض وضو کے لئے پانی ہو، مگر غسل کے لئے بقدرِ کفایت پانی نہ ہو تو غسل کے لئے تیمم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لئے مندرجہ ذیل شرائط ہیں:

۱:۔ ٹرین کے کسی ڈبے میں بھی اتنا پانی نہ ہو جس سے غسل کے فرائض ادا ہوسکیں۔

۲:۔ راستے میں ایک میل شرعی کے اندر اسٹیشن نہ ہو جہاں پانی کا موجود ہونا معلوم ہو۔

۳:۔ ٹرین کے تختوں پر اتنی مٹی جمی ہوئی ہو جس سے تیمم ہوسکے۔(۱)

اگر مندرجہ بالا شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو جس طرح بن پڑے اس وقت تو نماز پڑھ لے، مگر بعد میں غسل کرکے نماز کا اعادہ ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) ومن لم یجد الماء وھو مسافر أو خارج المصر بینہ وبین المصر میل أو أكثر یتیمم بالصعید۔ (ھدایۃ ص:۴۹، باب التیمم)۔ أیضًا: قال أبو جعفر: ویتمم فی غیر الأمصار والقریٰ إذا أعوز الماء۔ قال أبوبكر: وذالك لقول اللہ تعالٰی: ﵟ٠فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗاﵞ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۱۴ باب التیمم)۔ أیضًا: وكل شیء یتیمم بہ من تراب أو طین أو جص ۔۔۔ أو ما یكون من الأرض سواء ذالك من حجارۃ أو غبار ثوب فإنہ یجریہ فی قول أبی حنیفۃ قال أبوبكر: وجہ قول أبی حنیفۃ قول اللہ تعالٰی: ﵟفَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗاﵞ۔۔۔ الصعید، الأرض، والصعید: التراب ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۲۰، طبع بیروت)۔
  2. (۲) (والمحصور فاقد الطھورین یؤخرھا عندہ وقالَا یتشبّہ) بالمصلین وجوبًا فیركع إن وجد مکانًا یابسًا وإلّا یؤمی قائمًا ثم یعید کالصوم۔ (بہ یفتی وإلیہ صح رجوعہ)۔ (درمختار علی التنویر مع رد المحتار ج:۱ ص:۲۵۲، مطلب فاقد الطھورین)۔