غسلکےمسائل
کیا خضاب لگانے والے کا غسل ہوجاتا ہے؟
سوال:۔
ایک علم والے نے بتایا کہ بالوں کو خضاب (رنگ) لگانے والے کا کبھی غسلِ جنابت نہیں ہوتا، یعنی وہ پاک نہیں ہوتا، ایسے آدمی کو مسجد سے بھی دُور رہنا چاہئے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اس نے یہ بتایا کہ ابوداؤد کی ایک حدیث مبارک ہے کہ خضاب لگانے والا جنت کی خوشبو سے بھی دُور ہوگا۔ کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:۔
آپ نے جو مسئلہ لکھا ہے کہ خضاب لگانے والے کا غسلِ جنابت نہیں ہوتا، یہ تو صحیح نہیں۔(۱) البتہ سیاہ خضاب لگانا جائز نہیں،(۲) آپ نے جو حدیث لکھی ہے وہ صحیح ہے۔(۳)
- (۱) أما أصبغۃ الوجہ والشفتین فلا تمنع وصول الماء لعدم لزوجتھا وصلابتھا، کأثر الحناء علی الكفین والقدمین، والعبرۃ فی ھٰذہ المسائل لنفوذ الماء ووصولہ إلی البدن۔ (الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید ج:۱ ص:۶۹، طبع دارالقلم، دمشق)۔
- (۲) عن جابر قال: أتی بأبی قحافۃ یوم فتح مكۃ ورأسہ ولحیتہ کالثغامۃ بیاضًا فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: غیّروا ھٰذا بشیء واجتنبوا السواد۔ (مشكوٰۃ ص: ۳۸۰) وفی المرقاۃ: قال النووی: فی الخضاب أقوال وأصحھا ان خضاب الشیب للرجل والمرأۃ یستحب وبالسواد حرام۔ (مرقاۃ ج:۴ ص:۴۰۸، كذا فی رد المحتار ج:۶ ص:۷۵۶)۔
- (۳) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یكون قوم یخضبون فی آخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام لَا یریحون رائحۃ الجنّۃ۔ (سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۲۲۲ باب ما جاء فی خضاب السواد، طبع ایچ ایم سعید)۔

