غسلکےمسائل
مصنوعی بال اور غسل
سوال:۔
آج کل گنجے پن کے علاج کے سلسلے میں ایک نیا طریقِ علاج متعارف ہوا ہے، جو ہمارے ملک میں کچھ عرصے سے رائج ہے، اور بہت سارے مسلمان اس طریقِ علاج سے اِستفادہ کر رہے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ طریقِ علاج شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔ اس طریقِ علاج کا نام ’’بالوں سے گنجے پن کا علاج‘‘ ہے، اس کی تفصیل یوں ہے کہ بالوں کو ایک پتلی مصنوعی جھلی پر لگایا جاتا ہے، جس میں جابجا بے شمار چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں تاکہ ان میں پسینہ باہر نکل سکے اور نہانے کے دوران پانی ان سوراخوں میں سے اندر داخل ہوکر سر کی جلد کو دھو دے۔ مذکورہ جھلی جس پر بال لگے ہوئے ہیں ان کو کیمیائی مادّے سے مریض کے باقی ماند اصل بالوں کے ساتھ چپکادیا جاتا ہے اور براہِ راست یہ جھلی مریض کی جلد پر نہیں چپکائی جاتی۔ جہاں پر بالوں کے ساتھ یہ بالوں والی جھلی چپکائی جاتی ہے وہاں سے بالوں کو پہلے کاٹ کر تقریباً آدھا اِنچ تک چھوٹا کردیا جاتا ہے، پھر انہی چھوٹے کئے ہوئے بالوں کے ساتھ کیمیائی مادّے کے ذریعے چپکادیا جاتا ہے۔ براہِ راست جلد کے ساتھ نہیں چپکایا جاتا۔ صورت یوں ہوتی ہے کہ اگر سر پر پانی ڈالا جائے تو جو سوراخ جھلی پر بنے ہوئے ہیں ان سے پانی گزر کر سر کی جلد کو دھوتا ہوا کناروں سے نکل جاتا ہے، جہاں پر جھلی صرف چھوٹے کئے ہوئے بالوں کے ساتھ چپکی ہوتی ہے، جلد کے ساتھ نہیں۔
اس طریقِ علاج کی افادیت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ جھلی ایک دفعہ سر پر لگائی جائے تو تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ تک سر پر لگی رہتی ہے، کھیل کود کے دوران، غسل اور تیرنے کے دوران نہیں اُترتی۔ مزید براں اس کو خود اُتارنا چاہیں تو بھی اس مذکورہ مدّت سے قبل نہیں اُتارسکتے، کیونکہ جن بالوں کے ساتھ چپکائی جاتی ہے وہ تقریباً ڈیڑھ ماہ میں بڑھ کر اتنے ہوجاتے ہیں کہ ان بالوں کو کاٹ کر اس کو اُتارا جاسکتا ہے، اور پھر دوبارہ انہیں بالوں کو چھوٹا کرکے تقریباً ڈیڑھ اِنچ تک دوبارہ لگادیا جاتا ہے۔
۱:۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کے بال لگوانا ایسے آدمی کے لئے جس کے اُوپر کے حصے کے بال نہ ہوں، مگر گردن اور کنپٹی کی طرف اپنے بال ہوں، جن پر وہ نماز کے وضو کے لئے اپنے اصل بالوں کے اُوپر مسح کرسکتا ہو، کیونکہ سر کے اصل بال یا جلد چوتھائی حصے سے زیادہ ہوں کیسا ہے؟
۲:۔ کیا مذکورہ طریقِ علاج سے لگائے ہوئے بالوں کے ساتھ جبکہ وہ جلد کے ساتھ نہیں چپکائے گئے ہیں، اور صرف بالوں کے ساتھ چپکائے گئے ہوں اور سر پر پانی ڈالا جائے تو وہ ان سوراخوں میں سے گزر کر کناروں سے بآسانی گزر سکتا ہو، اور یہ غسل کے دوران اُتاری نہ جاسکتی ہو، کیونکہ یہ ایک ماہ یا ڈیڑھ ماہ سے قبل نہیں اُتارسکتے۔ ایسی صورت میں فرض غسل پورا ہوا یا نہیں؟
۳:۔ کیا ایسی صورت میں اس طریق کو ایسی چیزوں سے مطابقت کی جاسکتی ہے مثلاً دانتوں پر خول کا چڑھانا اور مصنوعی ٹانگ وغیرہ کا لگانا۔ تفصیلی جواب عنایت فرماکر مشکور فرمائیں، کیونکہ بہت سارے مسلمان اس طریقِ علاج کو اِختیار کر رہے ہیں، اللہ آپ کو جزا دیں۔
جواب:۔
آپ نے جس جھلی کا ذِکر کیا ہے، ظاہر ہے کہ اس میں پانی چھن چھن کر کے سر کو تو ضرور پہنچتا ہوگا، لیکن اس میں اِشکال یہ ہے کہ جو بال اس جھلی سے چپکے ہوئے ہیں، وہ ایسے ہوں گے کہ نہ ان کو چھڑایا جاسکتا ہے اور نہ غسل میں پانی ان کو پہنچ سکتا ہے، اس صورت میں آدمی کا غسل نہیں ہوگا،(۱) اور غسل نہیں ہوگا، تو نماز اور تلاوت وغیرہ بھی صحیح نہیں ہوگی۔(۲) جہاں تک وضو میں مسح کا تعلق ہے وہ تو آسان ہے کہ اس جھلی سے پانی چھن چھن کر سر کو پہنچے گا تو سر کا مسح ہوجائے گا۔(۳)
- (۱) ولیس علی المرأۃ أن تنقض ضفائرھا فی الغسل إذا بلغ الماء أصول الشعر ۔۔۔ ولو ألزقت المرأۃ رأسھا بطیب بحیث لَا یصل الماء إلٰی أصول الشعر وجب علیھا إزالتہ لیصل الماء إلٰی أصولہ كذا فی السراج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳ الباب الثانی فی الغسل، طبع بلوچستان بك ڈپو كوئٹہ)۔
- (۲) عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تقبل صلاۃ بغیر طھور ولَا صدقۃ من غلول۔ (ترمذی ج:۱ ص:۲ أبواب الطھارۃ، طبع دھلی)۔
- (۳) (قولہ ﵟ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ ﵞ) المسح ھو الْإصابۃ ۔۔۔ وإن کان بعض رأسہ محلوقًا فمسح علٰی غیر المحلوق جاز وإن أصاب رأسہ ماء المطر أجزأہ عن المسح سواء مسحہ أو لَا۔ (الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری، كتاب الصلاۃ ص:۳، طبع مجتبائی دھلی)۔ أیضًا: ولَا یجوز المسح علی القلنسوۃ والعمامۃ وكذا لو مسحت المرأۃ علی الخمار إلّا أنہ إذا کان الماء متقاطرًا بحیث یصل إلی الشعر فحینئذ یجوز ذالك عن الشعر كذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶)۔

