بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

دانتوں پر کسی دھات کا خول ہو تو غسل کا جواز

سوال:۔

’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں مجھے آپ کے دئیے ہوئے ایک سوال کے جواب پر اعتراض ہے، سوال مندرجہ ذیل ہے:

’’سوال:۔دانتوں کے اُوپر سونا یا اس کے ہم شکل دھات سے بنائے ہوئے کور چڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسی حالت میں اس کا وضو اور غسل ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب:۔

جائز ہے اور غسل ہوجاتا ہے۔‘‘

جہاں تک میرا تعلق ہے، تو آپ کا جواب غسلِ جنابت کے لئے غلط ہے، ہاں! عام غسل ہوسکتا ہے، جبکہ غسلِ جنابت کے لئے حکم یہ ہے کہ ہونٹوں سے حلق تک ہر ذرّے ذرّے پر پانی کا پہنچانا فرض ہے، اتنی حد تک کہ دانتوں میں کوئی ایسی سخت چیز پھنسی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس جگہ پانی نہ پہنچ سکا ہو تو غسلِ جنابت میں ایسی چیز کو دانتوں سے چھڑاکر پانی بہایا جائے، ورنہ دیگر صورت میں غسل نہیں ہوگا۔ مگر آپ نے دانتوں کے اُوپر تو پورا کور چڑھانے کی اجازت دے دی اور سونے کا کور چڑھنے کی صورت میں پانی اس دانت تک نہیں پہنچ سکتا، اور پانی نہ پہنچنے کی صورت میں غسلِ جنابت ادا نہ ہوگا، اور اگر غسل ادا نہ ہوا تو نماز اکارت ہوجاتی ہے۔

جواب:۔

آپ نے صحیح لکھا ہے کہ اگر دانتوں کے اندر کوئی چیز ایسی پھنسی ہوئی ہو جو پانی کے پہنچنے میں رُکاوٹ ہو تو غسلِ جنابت کے لئے اس کا نکالنا ضروری ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔ مگر یہ حکم اسی وقت ہے جبکہ اس کا نکالنا بغیر مشقت کے ممکن بھی ہو، لیکن جو چیز اس طرح پیوست ہوجائے کہ اس کا نکالنا ممکن نہ رہے، مثلاً: دانتوں پر سونے چاندی کا خول اس طرح جمادیا جائے کہ وہ اُتر نہ سکے تو اس کے ظاہری حصے کو دانت کا حکم دیا جائے گا اور اس کو اُتارے بغیر غسل جائز ہوگا۔(۱)

  1. (۱) (و) لَا یمنع (ما علٰی ظفر صباغ (و) لَا (طعام بین أسنانہ) أو فی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل إن صلبا منع وھو الأصح۔ (درمختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۱ ص: ۱۵۴ مطلب فی ابحاث الغسل)۔ أیضًا: الأصل وجوب الغسل إلّا أنہ سقط لحرج۔ (ردالمحتار ج:۱ ص: ۱۵۳، طبع ایچ ایم سعید)۔