غسلکےمسائل
غسل کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر، کھلے میدان میں غسل
سوال:۔
مردوں کو غسل کھڑے ہوکر کرنا چاہئے یا بیٹھ کر؟ دُوسری بات یہ کہ برہنہ یا کچھ پہن کر کرنا چاہئے؟ مثلاً: دھوتی، پاجامہ۔ کیا مردوں کا کھلے میدانوں میں، صحن میں، سڑکوں پر نہانا صحیح یا جائز ہے جبکہ وہاں سے نامحرم عورتیں اور چھوٹے بڑے بچے اور دُوسرے لوگ گزرتے ہوں؟
جواب:۔
پردہ کی جگہ کپڑے اُتارکر غسل کرنا جائز ہے،(۱) اور اس صورت میں بیٹھ کر غسل کرنا زیادہ بہتر ہے، مرد اگر کھلے میدان میں ناف سے گھٹنوں تک کپڑا باندھ کر غسل کرے تو جائز ہے،(۲) اور ناف سے گھٹنوں تک ستر کھولنا حرام ہے۔(۳)
- (۱) وقیل یجوز أن یتجرد للغسل وحدہ۔ (مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ص:۱۰۶، فصل وآداب الْإغتسال ھی)۔
- (۲) وینظر الرجل من الرجل سویٰ ما بین سرّتہ إلٰی ما تحت ركبتہ۔ (تنویر الأبصار مع رد المحتار ج:۶ ص:۳۶۴، فصل فی النظر والمس)۔
- (۳) وروی عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: كل شیء أسفل من سرتہ إلٰی ركبتہ عورۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۶۹۷ كتاب الصلاۃ)۔ أیضًا: قال نوح آفندی: لأن كشف العورۃ حرام۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۳۳۸، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

