غسلکےمسائل
رمضان میں غرارہ اور ناک میں پانی ڈالے بغیر غسل کرنا
سوال:۔
رمضان المبارک کے مہینے میں دن کو کسی کو اِحتلام ہوا، روزے کی وجہ سے ناک میں اُوپر تک پانی نہیں ڈال سکتا اور نہ غرارہ کرسکتا ہے، بعد افطاری کے غرارہ کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض ہے، واجب ہے یا مستحب ہے؟ اگر کسی نے افطاری کے بعد غرارہ اور ناک میں پانی نہیں ڈالا تو کیا اس کا غسل جو دن میں کیا ہوا تھا کافی ہے؟
جواب:۔
غسل صحیح ہوگیا، افطاری کے بعد غرارہ کرنے یا ناک میں پانی چڑھانے کی ضرورت نہیں۔(۱)
- (۱) ولیس المبالغۃ فی المضمضۃ وھی إیصال الماء لرأس الحلق والمبالغۃ فی الْإستنشاق وھی إیصالہ ما فوق المارن لغیر الصائم والصائم لَا یبالغ فیھما خشیۃ إفساد الصوم لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: بالغ فی المضمضۃ والْإستنشاق إلّا أنتکون صائمًا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۳۹، الدر المختار ج:۱ ص:۱۵۱)۔ أیضًا: قولہ: غسل الفم والأنف أی بدون مبالغۃ فیھا فإنھا سنۃ فیہ علی المعتمد۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ص:۱۰۲، فصل لبیان فرائض الغسل)۔

