بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

غسل، وضو میں کوئی جگہ خشک رہ جائے تو غسل ووضو کا حکم

سوال:۔

غسل اور وضو میں اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے، کلی یا ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے اور بعد میں یاد آئے، تو کیا اسی بقیہ کو دھولیا جائے اور کلی وغیرہ کرلے، یا مکمل وضو اور غسل کیا جائے گا؟ اگر اسی بقیہ کو دھولیا تو کتنی دیر تک کرسکتے ہیں؟

جواب:۔

غسل میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض ہے،(۱) اور وضو میں سنت ہے،(۲) اور غسل کے بعد یاد آیا کہ کلی نہیں کی، یا ناک میں پانی نہیں ڈلا، تو صرف کلی کرلینا اور ناک میں پانی ڈال لینا کافی ہے، دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اگر وضو یا غسل میں کوئی جگہ خشک رہ جائے تو اتنی جگہ دھولینا کافی ہے، دوبارہ وضو اور غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔(۳)

  1. (۱) (الباب الثانی فی الغسل) (الفصل الأوّل فی فرائضہ) وھی ثلاثۃ: المضمضۃ والْإستنشاق وغسل جمیع البدن۔ (عالگمیری ج:۱ ص:۱۳، الباب الثانی فی الغسل)۔
  2. (۲) (الفصل الثانی فی سنن الوضوء) (ومنھا المضمضۃ والْإستنشاق) والسُّنَّۃ أن یتمضمض ثلاثًا أوّلًا ثم یستنشق ثلاثًا ۔۔۔الخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶ الفصل الثانی فی سنن الوضوء)۔
  3. (۳) ولو تركھا أی ترك المضمضۃ أو الْإستنشاق أو لمعۃ من أی موضع کان من البدن ناسیًا ۔۔۔ ثم تذکر ذالك یتضمن أو یستنشق أو یغسل اللمعۃ۔ (حلبی كبیر ص:۵۰، طبع سھیل اكیڈمی لَاھور)۔