بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غسل‌کے‌مسائل

غسل کا طریقہ

سوال:۔

مولانا صاحب! میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہمارے مذہب میں غسل کرنے کا طریقۂ کار کیا ہے؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے ہر مسلمان عورت کا واقف ہونا ضروری ہے، لیکن افسوس کہ بہت ہی کم مسلمان ایسے ہیں جو اس کی اہمیت اور صحیح طریقے سے واقف ہیں۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے کالم میں اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔ جواب دیتے وقت ان باتوں کی بھی وضاحت کردیں کہ کیا غسل کرتے وقت پہلے وضو کرنا ضروری ہے؟ دوم یہ کہ غسل کرتے وقت کیا زیرِ ناف کپڑا باندھنا بھی ضروری ہے؟ اور سوم یہ کہ غسل کرتے وقت کون سی دُعائیں پڑھتے ہیں؟ کیا پانچوں کلمے پڑھنا ضروری ہیں یا صرف دُرود شریف پڑھ کر مقصد پورا ہوجاتا ہے؟ اور غسل لینے کا صحیح طریقہ اسلام میں کیا ہے؟

جواب:۔

غسل کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے اور اِستنجا کرے، پھر بدن پر کسی جگہ نجاست لگی ہو، اُسے دھو ڈالے، پھر وضو کرے، پھر تمام بدن کو تھوڑا سا پانی ڈال کر ملے، پھر سارے بدن پر تین مرتبہ پانی بہالے۔(۱)

غسل میں تین چیزیں فرض ہیں۔ ۱:کلی کرنا۔ ۲:ناک میں پانی ڈالنا۔ ۳:پورے بدن پر پانی بہانا۔(۲) بدن کا اگر ایک بال بھی خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوگا اور آدمی بدستور ناپاک رہے گا۔ ناک، کان کے سوراخوں میں پانی پہنچانا بھی فرض ہے،(۳) انگوٹھی چھلّہ اگر تنگ ہوں تو اس کو ہلاکر اس کے نیچے پانی پہنچانا بھی لازم ہے، ورنہ غسل نہ ہوگا۔(۴) بعض بہنیں ناخن پالش وغیرہ ایسی چیزیں استعمال کرتی ہیں جو بدن تک پانی پہنچنے نہیں دیتیں، غسل میں ان چیزوں کو اُتار کر پانی پہنچانا ضروری ہے۔ بعض اوقات بے خیالی میں ناخنوں کے اندر آٹا لگا رہ جاتا ہے، اس کو نکالنا بھی ضروری ہے۔(۵) الغرض! پورے جسم پر پانی بہانا اور جو چیزیں پانی کے بدن تک پہنچنے میں رُکاوٹ ہیں ان کو ہٹانا ضروری ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔ عورتوں کے سر کے بال اگر گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کو کھول کر ان کو تر کرنا ضروری نہیں، بلکہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچالینا کافی ہے،(۶) لیکن اگر بال گندھے ہوئے نہ ہوں (آج کل عموماً یہی ہوتا ہے) تو سارے بالوں کو اچھی طرح تر کرنا بھی ضروری ہے۔(۷)

اب آپ کے سوالات کا جواب لکھتا ہوں:

ت غسل سے پہلے وضو کرنا سنت ہے،(۸) اگر نہ کیا تب بھی غسل ہوجائے گا۔

تکپڑا باندھنا ضروری نہیں، مستحب ہے۔(۹)

تغسل کے وقت کوئی دُعا، کوئی کلمہ پڑھنا ضروری نہیں، نہ دُرود شریف ضروری ہے، بلکہ اگر جسم پر کوئی کپڑا نہ ہو تو اس حالت میں دُعا، کلمہ اور دُرود شریف جائز ہی نہیں، برہنگی کی حالت میں خاموش رہنے کا حکم ہے، اس وقت کلمہ پڑھنا ناواقف عورتوں کی ایجاد ہے۔(۱۰)

  1. (۱) وسنتہ أن یبدأ المغتسل فیغسل یدیہ وفرجہ ویزیل النجاسۃ إن کانت علٰی بدنہ ثم یتوضأ وضوئہ للصلاۃ إلّا رجلیہ ثم یفیض الماء علٰی رأسہ وسائر جسدہ ثلاثًا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۳۰) أیضًا: والغسل من الجنابۃ والحیض والنفاس أن یبدأ فیغسل ما بہ من الأذیٰ، ثم یتوضأ وضوئہ للصلاۃ، ثم یفیض الماء علٰی رأسہ وسائر جسدہ إفاضۃً تصل بھا الماء إلٰی شعرہ وبشرہ، ولَا بد فی ذالك من المضمضۃ والْإستنشاق، قال أبوبكر أحمد: روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ توضأ وضوئہ للصلاۃ فی غسل الجنابۃ، ثم أفاض الماء علٰی رأسہ وسائر جسدہ ثلاثًا غیر رجلیہ، ثم تنحٰی فغسل رجلیہ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۰۸، طبع بیروت)۔
  2. (۲) وفرض الغسل: المضمضۃ، والْإستنشاق وغسل سائر البدن ۔۔۔ ولنا قولہ تعالٰی: ﵟ وَإِن كُنتُمۡ جُنُبٗا فَٱطَّهَّرُواْۚ ﵞ، أمر بالْإطھار وھو تطھیر جمیع البدن۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۹ كتاب الطھارۃ، طبع شركت علمیہ، ملتان)
  3. (۳) (وفرض الغسل غسل فمہ وأنفہ وبدنہ لَا دلكہ ویجب غسل) كل ما یمكن من البدن بلا حرج مرۃ کاذن۔ (در مختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۱ ص:۱۵۱، مطلب فی ابحاث الغسل)۔ وفی شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۱۰ وقال علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم من ترك شعرۃ من جسد فی الجنابۃ لم یغسلھا فُعِلَ بھا كذا وكذا من النار، فھٰذہ الأخبار توجب غسل جمیع البدن۔ أیضًا: ولو بقی شیء من بدنہ لم یصبہ الماء لم یخرج من الجنابۃ وإن قلّ أی ولو کان ذالك الشیء قلیلًا بقدر رأس إبرۃ لوجوب إستیعاب جمیع البدن۔ (حلبی كبیر ص:۵۰)۔
  4. (۴) (ولو) کان (خاتمہ ضیقا نزعہ أو حركہ) وجوبًا۔ (در مختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۱ ص:۱۵۵، مطلب فی ابحاث الغسل)۔
  5. (۵) نعم ذكر الخلاف فی شرح المنیۃ فی العجین واستظھر المنع لأن فیہ لذوجۃ وصلابۃ تمنع نفوذ الماء۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۱ ص:۱۵۴ مطلب فی ابحاث الغسل)۔
  6. (۶) وكفی بل اصل ضفیرتھا أی شعر المرأۃ المضفور للحرج۔ (در مختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۱ ص:۱۵۳ مطلب فی ابحاث الغسل)۔
  7. (۷) اما المنقوض فیفرض غسل كلہ اتفاقًا۔ (در مختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۱ ص:۱۵۳ مطلب فی ابحاث الغسل)۔
  8. (۸) یسن فی الْإغتسال اثنا عشر شیئًا (إلٰی أن قال) ثم یتوضأ كوضوئہ للصلٰوۃ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراق الفلاح ج:۱ ص:۵۶، فصل یسن فی الْإغتسال اثنا عشر شیئًا)۔
  9. (۹) ویستحب أن یغتسل أی والحال أنہ مستور العورۃ۔ (مراقی الفلاح ج:۱ ص:۵۷، طبع میر محمد کراچی)۔
  10. (۱۰) ویدخل الخلاء برجلہ الیسریٰ ویستعیذ باللہ من الشیطان الرجیم قبل دخولہ وقبل كشف عورتہ۔ (مراقی الفلاح مع الطحطاوی ج:۱ ص:۵۱، فصل فیما یجوز بہ الْإستنجاء)۔ وفی حلبی كبیر: وكذا لَا یقرأ إذا کانت عورتہ مكشوفۃ۔ (ص:۶۱ مطلب فی أصح القولین)۔