بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پانی‌کے‌اَحکام

جوتا پانی کی ٹینکی میں گرجائے تو پانی کا حکم

سوال:۔

میرا ایک چھوٹا بھائی ہے، ایک دن وہ کھیلتے ہوئے پانی کی ٹینکی کی طرف چلا گیا، اس کا پاؤں پھسلا، ٹینکی جو ڈھکی ہوئی تھی اس کا ڈھکن ایک طرف ہوا، میرا بھائی تو اللہ کے فضل سے بچ گیا، لیکن اس کا جوتا پانی میں گرگیا، اور وہ پانی پینے کے لئے بھی اِستعمال ہوتا ہے اور وضو کے لئے، اور آپ کو معلوم ہے کہ جوتا بھی نیچے سے گندا ہی ہوتا ہے، بیت الخلاء بھی جاتا ہے اور باہر گلی کوچوں میں بھی۔ ہم لوگوں نے ٹینکی کا سارا پانی نکالا اور پھر دوبارہ تھوڑا تھوڑا پانی اور ڈالا تاکہ پاک ہوجائے۔ کیا ہمیں پانی تین بار اور نہیں ڈالنا تھا؟ کیا کوئی چیز اس وقت پاک ہوتی ہے جب اس میں تین بار پانی ڈال کر صاف کیا جائے؟ کیا دو بار پانی ڈالنے سے پانی کی ٹینکی صاف ہوگئی؟

جواب:۔

اگر جوتے کا ناپاک ہونا یقینی تھا، تب تو ٹینکی ناپاک ہوگئی، اور اگر اس پر یقینی طور پر نجاست لگی ہوئی نہیں تھی تو جوتے کے گرنے سے ٹینکی ناپاک نہیں ہوئی۔(۱)

ناپاک ٹینکی کو پاک کرنے کا ایک طریقہ تو وہ ہے جو آپ نے اِختیار کیا، یعنی ٹینکی کو تین بار دھوکر ہر بار کپڑے سے خشک کرلیا جائے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ جب ٹینکی میں پانی آرہا ہو تو اس کے اُوپر کا ڈھکن کھول دیا جائے تاکہ پانی ٹینکی کے اُوپر سے بہنے لگے، بس پاک ہوجائے گی۔(۲)

  1. (۱) ماء حوض الحمام طاھر عندھم ما لم یعلم بوقوع النجاسۃ فیہ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸، طبع بلوچستان)
  2. (۲) قال الشامی: ان دلوا تنجس فافرغ فیہ رجل ماء حتّٰی امتلأ وسال من جوانبہ ھل یطھر بمجرد ذٰلك أم لَا؟ والذی یظھر لی الطھارۃ۔ (شامی ج:۱ ص:۱۹۶، مطلب فی الحاق نحو القصعۃ بالحوض)۔