بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پانی‌کے‌اَحکام

ناپاک کنویں کا پانی استعمال کرنا

سوال:۔

ایک کنویں میں کافی وقت پہلے خنزیر گر کر مرگیا، کسی نے بھی پانی اور خنزیر نہیں نکالا، لیکن اب کچھ مزدور کچی اینٹیں بناتے ہیں اور قریب ہونے کی وجہ سے اس کنویں کا پانی استعمال کرتے ہیں۔ اب کیا یہ مٹی پاک ہوگی یا نہیں؟ اور اس پانی کی وجہ سے جو جسم اور کپڑوں پر چھینٹے لگ جاتے ہیں، کیا بغیر دھوئے اور نہائے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب:۔

یہ کنواں جب تک پاک نہیں کیا جاتا، اس کا پانی ناپاک ہے! اس سے جو کچی اینٹیں بنائی جاتی ہیں وہ بھی ناپاک ہیں، اس کے چھینٹے دھوئے بغیر نماز دُرست نہیں۔ اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کنویں سے خنزیر کی ہڈیاں وغیرہ نکال دی جائیں، اس کے بعد کنویں کا سارا پانی نکال دیا جائے، اگر سارا پانی نکالنا مشکل ہے تو دو سو ڈول سے تین سو ڈول تک پانی نکال دینے سے کنواں پاک ہوجائے گا۔(۱)

  1. (۱) إذا وقعت نجاسۃ فی بئر دون القدر الكثیر أو مات فیھا ۔۔۔إلخ، ینزح كل مائھا ۔۔۔إلخ، وإن تعذر ۔۔۔إلخ، قیل یفتی بمأتین إلٰی ثلاثمائۃ وھٰذا أیسر وذاك أحوَط۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۱ ص:۲۱۱، فصل فی بئر)۔