بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پانی‌کے‌اَحکام

گٹر لائن کی آمیزش اور بدبو والے پانی کا استعمال

سوال:۔

بعض مرتبہ ہم کسی مسجد میں جاتے ہیں اور وضو کے لئے نلکا کھولتے ہیں تو شروع میں بدبودار پانی آتا ہے، پانی بظاہر صاف نظر آتا ہے اور کوئی رنگ کی آمیزش نہیں ہوتی، لیکن پانی میں بدبو سی محسوس ہوتی ہے، ایسی صورت میں کیا اس پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے یا یہ پانی ناپاک تصوّر ہوگا اور اس پانی سے وضو نہیں ہوگا؟

جواب:۔

نلوں کے ذریعہ جو بدبودار پانی آتا ہے اور پھر صاف پانی آنے لگتا ہے اس بارے میں جب تک بدبودار پانی کی حقیقت معلوم نہ ہو یا رنگ اور بو سے ناپاکی کا پتہ نہ چلتا ہو، اس وقت تک اس کے ناپاک ہونے کا حکم نہیں دیا جائے گا،(۱) کیونکہ پانی کا بدبودار ہونا اور چیز ہے اور ناپاک ہونا دُوسری چیز ہے، اور اگر تحقیق ہوجائے یہ پانی گٹر کا ہے تو نل کھول دینے کے بعد وہ ’’جاری پانی‘‘ کے حکم میں ہوجائے گا اور پاک ہوجائے گا، بس بدبودار پانی نکال دیا جائے، بعد میں آنے والے صاف پانی سے وضو اور غسل صحیح ہے۔(۲)

  1. (۱) ایضاً صفحہ ۱۶۲ کاحوالہ نمبر۱۔
  2. (۲) وفی النصاب والفتویٰ فی الماء الجاری أنہ لَا یتنجس ما لم یتغیر طعمہ أو لونہ أو ریحہ من النجاسۃ، كذا فی المضمرات، وإذا ألقی فی الماء الجاری شیء نجس کالجیفۃ والخمر لَا یتنجس ما لم یتغیر لونہ أو طعمہ أو ریحہ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۷، الباب الثانی فی المیاہ)۔ الماء الجاری بعد ما تغیر أحد أوصافہ وحكم بنجاستہ لَا یحكم بطھارتہ ما لم یزل ذٰلك التغیر بأن یرد علیہ ماء طاھر حتّٰی یزیل ذٰلك التغیر كذا فی المحیط۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۸ الباب الثالث، طبع بلوچستان)۔