بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پانی‌کے‌اَحکام

چشمے کا بہتا پانی پاک ہے جبکہ اس سے سوَر وغیرہ جانور پیتے ہوں

سوال:۔

یہاں سے کوئی تیس میل دُور ایک شکارگاہ ہے، جہاں چشمے کا پانی بہتا ہے، یعنی جنگل ہے، جس کی لمبائی ہمیں معلوم نہیں ہے، اندازہ یہی ہے کہ چار پانچ میل ہے، اسی جنگل شکارگاہ میں خنزیر یعنی سوَر کافی تعداد میں ملتے ہیں، یعنی اسی پانی کے اندر چلتے پھرتے، سوتے ہیں، لوگ شکار کھیلتے ہیں اور اس کا پانی بہت کڑوا ہے۔ بے اندازہ یعنی ہاتھوں اور منہ کو کوئی دھوئے تو جلن محسوس ہوتی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ آدمی اس پانی سے وضو کرسکتا ہے یا نہیں؟ آیا اس پانی سے کپڑے پلید ہوں گے یا نہیں؟ اس پانی کا برائے طہارت استعمال کیسا ہے؟

جواب:۔

جب تک پانی کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو، پانی پاک سمجھا جائے گا۔(۱)

  1. (۱) ماء حوض الحمام طاھر عندھم ما لم یعلم بوقوع النجاسۃ فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸)۔ قال أبو جعفر: وإذا وقعت نجاسۃ فی ماء فظھر فیہ لونھا أو طعمھما أو ریحھا أو لم یظھر ذالك فیہ، فقد نجستہ، قلیلًا کان الماء أو كثیرًا، إلّا أن یكون بحرًا أو ماءً حكمہ حكم البحر، وھو ما لَا یتحرك أحد أطرافہ بتحریك ما سواہ من أطرافہ، قال أبوبكر: تحصیل المذھب فیہ أن كل ما تیقنا فیہ جزأً من النجاسۃ أو غلب ذالك فی رأینا فھو نجس لَا یجوز إستعمالہ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۲۳۹، كتاب الطھارۃ)۔