پانیکےاَحکام
کنویں کے جراثیم آلودہ پانی کا حکم
سوال:۔
ہمارے محلے کی مسجد میں کنواں کھودا گیا، یہ کنواں چالیس فٹ نیچے کھودا گیا ہے، اس کنویں کا پانی ہم نے لیبارٹری والوں کو بھیجا تھا تاکہ معلوم ہوجائے کہ آیا پانی ہم استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ پانی میں جراثیم وغیرہ ہیں، جبکہ پانی کا نہ تو رنگ بدلا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی بو وغیرہ ہے۔ آیا ہم اس پانی سے وضو کرسکتے ہیں اور پی بھی سکتے ہیں؟
جواب:۔
اس پانی کے ساتھ وضو یا غسل کرنا، کپڑے دھونا وغیرہ بالکل دُرست ہے،(۱) شرعاً اس کے پینے میں بھی کوئی حرج نہیں، البتہ اگر صحت کے لئے مضر ہو تو نہ پیا جائے۔
النوع الأوّل: الماء الطھور أو المطلق: ھو الطاھر فی نفسہ المطھر لغیرہ، وھو كل ماء نزل من السماء، أو نبع من الأرض، ما دام باقیًا علٰی أصل الخِلقۃ، فلم یتغیر أحد أوصافہ الثلاثۃ وھی (اللون والطِعم والرائحۃ) ۔۔۔الخ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۱ ص:۱۱۳، المبحث الرابع، أنواع المیاہ، طبع دارالفكر دمشق)۔
- (۱) کیونکہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف نہیں بدلا ہے،

