جنچیزوںسےوضونہیںٹوٹتا
شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
سوال:۔
حدیث پاک نظروں سے گزری کہ ذَکر کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے(مؤطا اِمام مالکؒ)۔ یعنی نماز میں یا ویسے، قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت چھولے، اس بارے میں ضرور آگاہ کریں؟
جواب:۔
شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا،(۱) حدیث میں وضو کا حکم یا تو اِستحباب کے طور پر ہے یا لغوی وضو یعنی ہاتھ دھونے پر محمول ہے۔(۲)
- (۱) أیضًا عن قیس بن طلق بن علی الحنفی عن أبیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: وھل ھو إلّا مضغۃ منہ أو بضعۃ منہ۔ (جامع الترمذی، باب ترك الوضوء من مس الذكر ج:۱ ص:۱۳ طبع کتب خانہ رشیدیہ دہلی)۔
- (۲) قال ابن أمیر حاج: یمكن حمل حدیث بسرۃ علٰی غسل الیدین، وقد تقدم انہ یستحب الوضوء للخروج من خلاف العلماء۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص:۹۳، فصل عشرۃ أشیاء لَا تنقض الوضوء)۔ أیضًا: ثم حمل الطحاوی الوضوء علٰی غسل الید إستحبابًا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشكوٰۃ المصابیح ج:۱ ص:۲۷۸، باب ما یوجب الوضوء، الفصل الثانی طبع بمبئی)۔ أیضًا: فإنہ یمكن التطبیق بینھما بأن الأمر للإستحباب تنظیفًا والنفی لنفی الوجوب فلا حاجۃ إلی النسخ الصحیح عندی أن الأمر للإستحباب كما قال فی الدر المختار: لٰـكن یندب للخروج من الخلاف لَا سیما للإمام۔ (إعلاء السُّنن ج:۱ ص:۱۱۸، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔

