جنچیزوںسےوضونہیںٹوٹتا
ننگا ہونے یا مخصوص جگہ ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
سوال:۔
غسل خانے میں ننگا ہوگیا، مکمل وضو کیا، اس کے بعد غسل کیا، صابن وغیرہ تمام جسم پر لگایا، ہاتھ بھی جگہ جگہ (مخصوص جگہ) لگایا، اس کے بعد کپڑے تبدیل کرکے باہر آگیا، کیا نماز ادا کرسکتا ہوں یا کپڑے بدل کر وضو کروں پھر نماز ادا کروں؟
جواب:۔
وضو ہوگیا، دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ برہنہ ہونے یا اپنے اعضا کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔(۱)
- (۱) عشرۃ أشیاء لَا تنقض الوضوء، منھا (إلٰی أن قال) ومنھا مس ذكر ودبر وفرج مطلقًا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ص:۹۳، فصل عشرۃ أشیاء لَا تنقض الوضوء)۔ أیضًا: لَا ینقضہ مس ذكر لٰـكن یغسل یدہ ندبا وإمرأۃ وأمرد، لٰـكن یندب للخروج من الخلاف لَا سیما للإمام۔ وفی رد المحتار: قولہ لٰـكن یغسل یدہ ندبا لحدیث من مس ذكر فلیتوضأ أی لیغسل یدہ جمعا بینہ وبین قولہ صلی اللہ علیہ وسلم ھل ھو إلّا بضعۃ منك، حین سئل عن الرجل یمس ذكرہ بعد ما توضأ۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۱ ص:۱۴۷، مطلب نوم الأنبیاء غیر ناقض)۔

