جنچیزوںسےوضونہیںٹوٹتا
بوسہ لینے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
سوال:۔
مؤطا اِمام مالکؒ میں پڑھا ہے کہ بیوی کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، کیا یہ حنفی مسلک میں بھی ہے کہ بیوی کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جائے گا؟ یا بیوی خاوند کا بوسہ لے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:۔
حنفیہ کے نزدیک بیوی کا بوسہ لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا،(۱) اِلَّا یہ کہ مذی خارج ہوجائے،(۲) حدیث کو اِستحباب پر محمول کرسکتے ہیں۔(۳)
- (۱) عن عطاء عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یقبل بعض نسائہ ثم یصلی ولَا یتوضأ۔ رواہ البزار واسنادہ صحیح۔ (إعلاء السنن ج:۱ ص:۱۵۰، باب ترك الوضوء من مس المرأۃ، طبع إدارۃ القرآن)۔
- (۲) المذی ینقض الوضوء۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۰، الفصل الخامس فی نواقض الوضوء)۔ أیضًا: ولیس فی المذی والودی غسل وفیھما الوضوء۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۳۳، كتاب الطھارۃ، طبع شركت علمیۃ، ملتان)۔
- (۳) وما ورد عنھم من الوضوء فی القبلۃ ونحوھا فمحمول علی الندب۔ (إعلاء السُّنن ج:۱ ص:۱۱۷، طبع إدارۃ القرآن)۔

