بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جن‌چیزوں‌سے‌وضو‌ٹوٹ‌جاتا‌ہے

دُکھتی آنکھ سے نجس پانی نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے

سوال:۔

وہ پانی جو آنکھ میں درد سے نکلے، اس کا کیا حکم ہے، پاک یا پلید؟

جواب:۔

دُکھتی ہوئی آنکھ سے جو پانی نکلتا ہے اُس سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر آنکھ میں کوئی پھنسی وغیرہ ہو اور اس سے پانی نکلتا ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،(۱) اس لئے کہ یہ نجس ہے۔

  1. (۱) وإن خرج بہ أی بوجع لأنہ دلیل الجرح، فدمع من بعینہ رمد أو عمش ناقض فإن استمر صار ذا عذر مجتبٰی۔ (قولہ ناقض ۔۔۔الخ) قال فی المنیۃ: وعن محمد إذا کان فی عینیہ رمد وتسیل الدموع منھا آمرہ بالوضوء لوقت كل صلاۃ، لأنی أخاف أن یكون ما یسیل منھا صدیدًا فیكون صاحب العذر ۔۔۔الخ۔ (قولہ مجتبٰی) عبارتہ: الدم والقیح والصدید وماء الجرح والنفطۃ وماء البثرۃ والثدی والعین والأذن لعلۃ سواء علی الأصح، وقولھم: والعین والأذن لعلۃ، دلیل علٰی أن من رمدت عینہ فسال منھا ماء بسبب الرمد ینتقض وضوئہ، وھٰذہ مسئلۃ والناس عنھا غافلون اھـ۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۱ ص:۱۴۷، ۱۴۸، مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف، فتح القدیر ج:۱ ص:۱۸۷، طبع دار صادر، بیروت)۔