جنچیزوںسےوضوٹوٹجاتاہے
ہوا خارج ہونے پر صرف وضو کرے استنجا نہیں
سوال:۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک آدمی نہاکر نماز پڑھنے کے لئے جائے اور بے خیالی میں اس کی صرف ہوا خارج ہوجائے تو کیا ایسے آدمی کے لئے استنجا کرنا لازمی ہے یا صرف وضو کرے؟
جواب:۔
صرف وضو کرلینا کافی ہے، پیشاب پاخانہ کے بغیر استنجا کرنا بدعت ہے۔(۱)
- (۱) أن الْإستنجاء علٰی خمسۃ أوجہ ۔۔۔ الخامس: بدعۃ: وھو الْإستنجاء من الریح۔ (الفتاوی الشامیۃ ج:۱ ص:۳۳۶، فصل فی الْإستنجاء، طبع ایچ ایم سعید)۔ وأیضًا: الْإستنجاء سنۃ من كل ما یخرج من السبیلین إلّا الریح، (وفی شرحہ) اعلم أن الْإستنجاء علٰی خمسۃ أوجہ ۔۔۔ والخامس بدعۃ: وھو الْإستنجاء من الریح إذا لم یظھر الحدث من السبیلین۔ (الْإختیار لتعلیل المختار ص: ۳۶، باب الأنجاس وتطھیرھا، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔

