جنچیزوںسےوضوٹوٹجاتاہے
اگر پاؤں میں کانٹا چبھ جانے سے خون نکل آئے تو وضو کا کیا حکم ہے؟
سوال:۔
اگر وضو کرنے کے بعد پاؤں میں کانٹا چبھ جائے مگر خون نکل کر نہ بہے، مگر جب چلنے کی وجہ سے اس پر ہاتھ پھیرا جائے تو خون کی ایک ہلکی سی لکیر کھنچ جائے، تو وضو ٹوٹ جائے گا؟
جواب:۔
اگر خون اتنا ہو کہ اگر اس کو ملا نہ جاتا تو بہہ نکلتا تب تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر اتنا نہیں تھا تو نہیں ٹوٹتا۔(۱)
- (۱) لو مسح الدم كلما خرج ولو تركہ لسال نقض، وإلّا لَا، كما لو سال فی باطن عین أو جرح أو ذكر ولم یخرج۔ وفی الشامیۃ (قولہ: لو مسح الدم كلما خرج ۔۔۔الخ) وكذا إذا وضع علیہ قطنًا أو شیئًا آخر حتّٰی ینشف ثم وضعہ ثانیًا وثالثًا فإنہ یجمع جمیع ما نشف، فإن کان بحیث لو تركہ سال نقض، وإنما یعرف ھٰذا بالْإجتھاد وغالب الظن۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۱ ص:۱۳۴، ۱۳۵، مطلب نواقض الوضوء)۔ أیضًا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الوضوء من كل دم سائل۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۳۶۵، طبع دار البشائر الْإسلامیۃ)۔

