جنچیزوںسےوضوٹوٹجاتاہے
زخم سے خون نکلنے پر وضو کی تفصیل
سوال:۔
میرے ہاتھ پر زخم ہوگیا ہے، اور اکثر خون کا قطرہ ٹکپتا رہتا ہے، اور بسااوقات حالتِ صلوٰۃ میں بھی خون گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے، کیا اس کو تر کئے بغیر مسح کی صورت میں نماز پڑھ لیا کروں یا جب قطرہ ٹپکے تو وضو تازہ کرلیا کروں؟ محقق جواب دے کر ممنون فرماویں۔
جواب:۔
یہاں دو مسئلے ہیں، ایک یہ کہ اگر زخم کو پانی نقصان دیتا ہے تو آپ زخم کی جگہ کو دھونے کے بجائے اس پر مسح کرسکتے ہیں۔(۱)
دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس میں سے خون ہر وقت رستا رہتا ہے اور کسی وقت بھی موقوف نہیں ہوتا تو آپ کو ہر نماز کے پورے وقت کے اندر ایک بار وضو کرلینا کافی ہے،(۲) اور اگر کبھی رستا ہے اور کبھی نہیں تو جب بھی خون نکل کر بہہ جائے آپ کو دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔(۳)
- (۱) عن جابر رضی اللہ عنہ قال: خرجنا فی سفر فأصاب رجلًا منا حجرٌ، فشجہ فی رأسہ، فاحتلم، فقال لأصحابہ: ھل تجدون لی رخصۃ فی التیمم؟ فقالوا: ما نجد لك رخصۃ فی التیمم وأنت تقدر علی الماء، فاغتسل، فمات، فلما قدمنا علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم أخبر بذالك، فقال: قتلوہ! قتلھم اللہ، ألَا سألوا إذا لم یعلموا؟ فإنما شفاء العیّ السؤال، إنما کان یكفیہ أن یتیمم، أو یعصب علٰی جرحہ خرقۃ ثم یمسح علیھا ۔۔۔ قال أبوبكر: ھٰذا الحدیث قد دل علٰی معان من الفقہ ۔۔۔ ویدل أیضًا علٰی جواز المسح علی الجبائر ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۴۳، ۴۴۴، طبع بیروت)۔ أیضًا: وإنما یمسح إذا لم یقدر علٰی غسل ما تحتھا ومسحہ بأن تضرر بإصابۃ الماء أو حلھا ۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۳۵، الباب الخامس ومما یتصل بذٰلك المسح علی الجبائر، طبع بلوچستان بك ڈپو)۔
- (۲) المستحاضۃ من بہ سلس البول ۔۔۔ أو رعاف دائم، أو جرح لَا یرقاء یتوضؤن لوقت كل صلاۃ ویصلون بذٰلك الوضوء فی الوقت ما شآؤا من الفرائض والنوافل ۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ص:۴۱ ومما یتصل بذٰلك أحکام المعذور، الفصل الرابع، وأیضًا فتاویٰ شامی ج:۱ ص: ۳۰۵، مطلب فی أحکام المعذور)۔
- (۳) شرط ثبوت العذر إبتداء أن یستوعب استمرارہ وقت الصلاۃ کاملًا ۔۔۔ وشرط بقائہ ان لَا یمضی علیہ وقت فرض إلّا والحدث الذی ابتلی بہ یوجد فیہ۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۴۱ أحکام المعذور فصل الرابع)۔

