بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

قرآن مجید کی جلدسازی کے لئے وضو

سوال:۔

میں بنیادی طور پر جلدساز ہوں، میری دُکان پر ہر قسم کی اسٹیشنری وغیرہ کی جلدسازی ہوتی ہے، جس میں سرِفہرست قرآنِ کریم کی جلدسازی ہے۔ میرا طریقۂ کار یہ ہے کہ جلدسازی سے قبل صرف ہاتھوں کو دھوکر جلدسازی کرتا ہوں، تاہم بحیثیت مسلمان میرے دِل و دماغ میں یہ بات ہمیشہ کھٹکتی رہتی ہے کہ قرآنِ کریم جیسی عظیم المرتبت کتاب کی جلدسازی اگر باوضو کی جائے تو زیادہ بہتر رہے گا، مگر کام کی زیادتی کی وجہ سے میرے لئے یہ مشکل ہے۔ اس موقع پر یہ سوچتا ہوں کہ جہاں قرآنِ کریم کی کتابت، طباعت و دیگر مراحل طے پاتے ہیں، تو کیا سارے افراد باوضو ہوکر اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں؟ اس سلسلے میں کئی لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا: میاں! آپ صرف نماز پڑھا کریں، یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں اور نہ ہی فرض! براہِ کرم میری اُلجھن دُور فرمائیں۔

جواب:۔

قرآنِ کریم کے اوراق کو بغیر وضو کے ہاتھ لگانا جائز نہیں،(۱) آپ ’’کئی لوگوں سے مشورہ‘‘ نہ کریں، قرآنِ کریم کی جلدسازی کے لئے وضو کا اہتمام کریں، اگر معذور ہے تو مجبوری ہے، تاہم اس کو ہلکی اور معمولی بات نہ سمجھا جائے۔

  1. (۱) وكذا المحدث لَا یمس المصحف إلّا بغلافہ، لقولہ علیہ السلام: لَا یمس القرآن إلّا طاھر ۔۔۔الخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۴۸)۔ أیضًا: ولَا یمس المصحف لقول اللہ تعالٰی: ﵟ لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ ﵞوفی كتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم لعمرو بن حزم: وأن لَا یمس القرآن إلّا طاھر۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۳۴۵، أیضًا: التلخیص الحبیر ج:۱ ص:۱۳۱، ج:۴ ص:۱۷ حدیث نمبر:۱۶۸۸)۔