وضوکےمسائل
مستعمل پانی سے وضو
سوال:۔
مستعمل پانی اور غیرمستعمل پانی جبکہ یکجا جمع ہوں، کوئی اور پانی برائے وضو نہ ملے اور مستعمل اور غیرمستعمل برابر ہوں، مثلاً: ایک لوٹا مستعمل اور ایک لوٹا غیرمستعمل ہو، اب فرمائیں کہ اس صورت میں کیا کریں، وضو یا تیمم؟
جواب:۔
مستعمل اور غیرمستعمل پانی اگر مل جائیں تو غالب کا اعتبار ہے، اور اگر دونوں برابر ہوں تو احتیاطاً غیرمستعمل کو مغلوب قرار دیا جائے گا، اور اس سے وضو صحیح نہیں۔(۱)
نوٹ:۔ مستعمل پانی وہ کہلاتا ہے جو وضو اور غسل کرتے وقت اعضاء سے گرے۔(۲) اور جس برتن سے وضو یا غسل کر رہے ہوں، وضو اور غسل کے بعد جو پانی، بچ جاتا ہے، وہ مستعمل پانی نہیں کہلاتا۔
- (۱) كمستعمل فبالأجزاء فإن المطلق أكثر من النصف جاز التطھیر بالكل وإلّا لَا۔ (درمختار) وفی الشامیۃ: قولہ: (وإلّا لَا) أی وإن لم یكن المطلق أكثر بأن کان أقل أو مساویًا لَا یجوز۔ (شامی، كتاب الطھارۃ، باب المیاہ ج:۱ ص:۱۸۲)۔
- (۲) الماء المستعمل ما أزیل بہ حدث أو استعمل فی البدن علٰی وجہ القربۃ، ومتی یصیر الماء مستعملًا؟ الصحیح أنہ كما زال عن العضو صار مستعملًا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۳۹ الماء المستعمل)۔

