بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے

سوال:۔

اگر ایک نمازی وضو کرتا ہے، اور جس برتن میں پانی لے کر وضو کیا اس برتن میں کچھ پانی بچ جاتا ہے، اس بچے ہوئے پانی کو دُوسرا آدمی وضو کے لئے استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب:۔

وضو کا بچا ہوا پانی پاک ہے، دُوسرا آدمی اس کو اِستعمال کرسکتا ہے۔(۱)

تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:

شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۲۳۰، ۲۳۱، كتاب الطھارۃ، طبع بیروت۔

  1. (۱) عن أبی حیۃ قال: رأیت علیًّا توضأ فغسل كفیہ حتی انقاھما ثم مضمض ثلاثًا واستنشق ثلاثًا وغسل وجھہ ثلاثًا وزراعیہ ثلاثًا ومسح برأسہ مرۃ ثم غسل قدمیہ إلی الكعبین ثم قام فأخذ فضل طھورہ فشربہ وھو قائم ثم قال: أحببت أن أریكم كیف کان طھور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ رواہ الترمذی والنسائی۔ (مشكوٰۃ ص:۴۶)۔ أیضًا: عن نافع عن ابن عمر أنہ قال: کان الرجال والنساء یتوضؤن فی زمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمیعًا۔ (بخاری ج:۱ ص:۳۲، كتاب الوضوء)۔