بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

پہلے وضو سے نماز پڑھے بغیر دوبارہ وضو کرنا مکروہ ہے

سوال:۔

اگر کسی شخص کو غسلِ جنابت کی حاجت نہیں ہے، یعنی وہ پاک ہے، وہ صرف نہاتا ہے، ظاہر ہے نہانے میں اس کا جسم سر سے لے کر پیر تک بھیگے گا، اس صورت میں وہ شخص بغیر وضو کے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ وہ شخص صرف نہایا ہے، اس نے نہ نہانے سے پہلے اور نہ نہانے کے بعد وضو بنایا ہے، لیکن سر سے پیر تک پانی ضرور بہایا ہے۔

سوال:۔

اخبار جنگ میں آپ کے کالم میں ایک سوال کے جواب میں کہ نہانے سے قبل یا بعد وضو نہ کرنے کے باوجود نہالینے سے وضو ہوجاتا ہے اور اس سے نماز پڑھی جاسکتی ہے، بلکہ غسل کے بعد اگر دو رکعت نہ پڑھی جائے اور وضو کیا جائے تو گناہگار ہوگا، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، مہربانی فرماکر ذرا وضاحت سے سمجھادیں۔

سوال:۔

جب ہم غسل کرتے ہیں تو ہم صرف انڈرویئر استعمال کرتے ہیں، میں نے کافی حضرات سے دریافت کیا کہ ہم جو پہلے وضو کرتے ہیں وہ ہوجاتا ہے یا نہیں؟ تو ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ کپڑے پہننے کے بعد دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے، ورنہ نماز نہیں ہوتی۔

جواب:۔

غسل کرنے سے وضو ہوجاتا ہے، اس لئے غسل کے بعد وضو کرنے کی ضرورت نہیں، نماز پڑھ سکتا ہے،(۱) بلکہ جب تک اس غسل سے کم سے کم دو رکعت نہ پڑھ لی جائیں یا کوئی دُوسری عبادت جس میں وضو شرط ہے، ادا نہ کرلی جائے، دوبارہ وضو کرنا مکروہ ہے۔(۲)

جواب:۔

دو باتیں سمجھ لیجئے! اوّل یہ کہ غسل میں جب پورے بدن پر پانی بہالیا تو وضو ہوگیا، دُوسرے لفظوں میں غسل کے اندر وضو خودبخود داخل ہوجاتا ہے۔ دُوسری بات یہ کہ وضو کے بعد جب تک اس وضو کو استعمال نہ کرلیا جائے، دوبارہ وضو کرنا مکروہ ہے۔ اور وضو کو استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس وضو سے کم از کم دو رکعت نماز پڑھ لی جائے، یا کوئی ایسی عبادت کرلی جائے جس کے لئے وضو شرط ہے، مثلاً: نمازِ جنازہ، سجدۂ تلاوت۔(۱)

(۱) ان الوضوء عبادۃ غیر مقصودۃ لذاتھا فإذا لم یؤدّ بہ عمل مما ھو المقصود من شرعیتہ کالصلاۃ وسجدۃ التلاوۃ ومس المصحف ینبغی أن لَا یشرع تکرارہ قربۃ لكونہ غیر مقصود لذاتہ فیكون إسرافًا محضًا، وقد قالوا فی السجدۃ لما لمتکن مقصودۃ لم یشرع التقرب بھا مستقلۃ وکانت مكروھۃ وھٰذا أولٰی۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۱۱۹)۔

جواب:۔

خدا جانے آپ نے کس سے پوچھا ہوگا! کسی عالم سے دریافت فرمائیے۔ غسل کرلینے کے بعد دوبارہ وضو کرنے کا جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی عالمِ دین قائل نہیں،(۱) اور یہ جو مشہور ہے کہ برہنہ ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا کہ برہنہ ہونے کی حالت میں وضو نہیں ہوتا، یہ محض غلط ہے۔(۲)

(۱) ویقول القاضی فی العارضۃ لم یختلف أحد من العلماء فی ان الوضوء داخل فی الغسل ۔۔۔إلخ۔ (معارف السُّنن ج:۱ ص:۳۶۸)۔

(۲) برہنہ ہونا نواقضِ وضو میں سے نہیں، اس لئے کسی نے اس جزئیہ کا تذکرہ نہیں کیا۔ ایضاً دیکھئے: فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱ ص:۱۳۵، خیر الفتاویٰ ج:۲ ص:۵۳

  1. (۱) عن عائشۃ قالت: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لَا یتوضأ بعد الغسل۔ (ترمذی، باب الوضوء ج:۱ ص: ۳۰)
  2. (۲) ومقتضی ھٰذا کراھتہ وإن تبدل المجلس ما لم یؤد بہ صلاۃ أو نحوھا ۔۔۔الخ۔ (شامی ج:۱ ص:۱۱۹ مطلب فی الوضوء علی الوضوء)۔