بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

آبِ زمزم سے وضو اور غسل کرنا

سوال:۔

مولانا صاحب! میں مکہ مکرّمہ میں رہتا ہوں، کئی دنوں سے اس مسئلے پر دِل میں اُلجھن رہتی ہے، برائے مہربانی اس کا شرعی حال بتائیں، آپ کا شکرگزار ہوں گا۔ مولانا صاحب! ہم پاکستان میں تھے تو آبِ زمزم کے لئے اتنی محبت تھی کہ کچھ بتا نہیں سکتے، اب بھی وہی ہے، ایک قطرے کے لئے ترستے تھے، یہاں لوگ وضو کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ نماز کے لئے وضو کرلینا جائز ہے یا ادب کے خلاف ہے؟ تفصیل سے جواب لکھیں۔

جواب:۔

جو شخص باوضو اور پاک ہو، وہ اگر محض برکت کے لئے آبِ زمزم سے وضو یا غسل کرے تو جائز ہے۔ اسی طرح کسی پاک کپڑے کو برکت کے لئے زمزم سے بھگونا بھی دُرست ہے، لیکن بے وضو آدمی کا زمزم شریف سے وضو کرنا یا کسی جنبی کا اس سے غسل کرنا مکروہ ہے، ضرورت کے وقت (جبکہ دُوسرا پانی نہ ملے) زمزم شریف سے وضو کرنا تو جائز ہے، مگر غسلِ جنابت بہرحال مکروہ ہے۔ اسی طرح اگر بدن یا کپڑے پر نجاست لگی ہو اس کو زمزم شریف سے دھونا بھی مکروہ ہے، بلکہ بقول بعض حرام ہے۔ یہی حکم زمزم سے استنجا کرنے کا ہے۔ نقل کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں نے آبِ زمزم سے استنجا کیا تو ان کو بواسیر ہوگئی۔ خلاصہ یہ کہ زمزم نہایت متبرک پانی ہے، اس کا ادب ضروری ہے، اس کا پینا موجبِ خیر و برکات ہے، اور چہرے پر، سر پر اور بدن پر ڈالنا بھی موجبِ برکت ہے، لیکن نجاست زائل کرنے کے لئے اس کو اِستعمال کرنا، نارَوا ہے۔(۱)

  1. (۱) ویجوز الْإغتسال والتوضؤ بماء زمزم ولَا یكرہ عند الثلاثۃ خلافًا لأحمد علٰی وجہ التبرك أی لَا بأس بما ذكر إلّا أنہ ینبغی أن یستعملہ علٰی قصد التبرك بالمسح أو الغسل أو التجدید فی الوضوء ولَا یستعمل إلّا علٰی شیء طاھر فلا ینبغی أن یغسل بہ ثوب نجس ولَا أن یغتسل بہ جنب ولَا محدث ولَا فی مکان نجس ویكرہ الْإستنجاء بہ وكذا إزالۃ النجاسۃ الحقیقۃ من ثوبہ أو بدنہ حتّٰی ذكر بعض العلماء تحریم ذالك ویقال إنہ استنجٰی بہ بعض الناس فحدث بہ الباسور۔ (إرشاد الساری ص:۳۳۰، طبع دار الفكر بیروت، شامی ج:۱ ص:۱۸۰، ج:۲ ص:۶۲۵، طبع ایچ ایم سعید)۔