وضوکےمسائل
گھنی داڑھی کو اندر سے دھونا ضروری نہیں، صرف خلال کافی ہے
سوال:۔
کیا وضو کرتے وقت تین دفعہ منہ دھونے کے بعد داڑھی کو اندر سے، باہر سے تر کرنے کے لئے بار بار ہاتھوں میں پانی لے کر دھونا ضروری ہے؟
جواب:۔
داڑھی اگر گھنی ہو، کہ اندر کی جلد نظر نہ آئے تو اس کو اُوپر سے دھونا فرض ہے اور اس کا خلال کرنا سنت ہے، اور اگر ہلکی ہو تو پوری داڑھی کو پانی سے تر کرنا ضروری ہے۔(۱)
- (۱) ویغسل ۔۔۔ ما کان من شعر اللحیۃ علٰی اصل الذقن ولَا یجب ایصال الماء إلٰی منابت الشعر إلّا أن یكون الشعر قلیلًا تبدو منہ المنابت كذا فی فتاویٰ قاضی خان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۴، كتاب الطھارۃ)۔ ویعطی أیضًا وجوب الْإسالۃ علٰی شعر اللحیۃ لأنہ أوجب غسل الوجہ وحدہ بذالك واختلف فیہ الروایات عند أبی حنیفۃ فعنہ یجب مسح ربعھا وعنہ مسح ما یلاقی البشرۃ وعنہ لَا یتعلق بشیء وھو روایۃ عن أبی یوسف وعن أبی یوسف إستیعابھا وأشار محمد رحمہ اللہ فی الأصل إلٰی أنہ یجب غسل كلہ قیل وھو الأصح وفی الفتاوی الظھیریۃ وعلیہ الفتویٰ لأنہ قام مقام البشرۃ فتحوّل الفرض إلیہ کالحاجب وقال فی البدائع عن ابن شجاع انھم رجعوا عما سویٰ ھٰذا كل ھٰذا فی الكثۃ أما الخفیفۃ التی تری بشرتھا فیجب إیصال الماء إلٰی تحتھا۔ (فتح القدیر ج:۱ ص:۹ طبع دار صادر بیروت)۔

