وضوکےمسائل
وضو میں ہر عضو کو تین بار سے زیادہ دھونا
سوال:۔
وضو کرتے وقت ہر عضو کو تین مرتبہ دھونا سنت ہے، اگر کوئی عضو دھوتے وقت تین سے زیادہ مرتبہ دھولیا جائے تو کیا وضو میں فرق آجائے گا؟
جواب:۔
ایک عضو کو تین بار سے زیادہ دھونا مکروہ اور پانی کا اِسراف ہے۔(۱)
- (۱) عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: جاء أعرابی إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم یسألہ عن الوضوء، فأراہ ثلاثًا ثلاثًا ثم قال: ھٰكذا الوضوء، فمن زاد علٰی ھٰذا فقد أساء وتعدیٰ وظلم۔ (مشكوٰۃ ج:۱ ص:۴۷، باب سُنن الوضوء)۔ وفی المرقاۃ (ج:۱ ص:۳۱۷) (فمن زاد علٰی ھٰذا فقد أساء) أی بترك السُّنَّۃ (وتعدی) أی حدھا بالزیادۃ، (وظلم) أی علٰی نفسہ بمخالفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ أو لأنہ أتلف الماء بلا فائدۃ۔ أیضًا: وفی الدر المختار: ومكروھہ ۔۔۔ ومنہ الزیادۃ علی الثلاث فیہ تحریمًا لو بماء النھر والمملوك لہ۔ وفی الشامیۃ: قولہ والْإسراف أی بأن یستعمل منہ فوق الحاجۃ الشرعیۃ، لما أخرج ابن ماجۃ وغیرہ عن عبداللہ بن عمرو ابن العاص أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ بسعد وھو یتوضأ فقال: ما ھٰذا السرف؟ فقال: أفی الوضوء إسراف؟ فقال: نعم! وإن كنت علٰی نھر جار۔ حلیہ، قولہ ومنہ أی من الْإسراف الزیادۃ علی الثلاث أی فی الغسلات مع إعتقاد أن ذالك ھو السُّنَّۃ لما قدمناہ أن الصحیح أن النھی محمول علٰی ذالك۔ (درمختار مع الشامی ج:۱ ص:۱۳۲)۔ وفی حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۴۵ (طبع میر محمد كتب خانہ): الْإسراف فی صبّ الماء، الْإسراف العمل فوق الحاجۃ الشرعیۃ فی فتاوی الحجۃ یكرہ صب الماء فی الوضوء زیادۃ علی العدد المسنون والقدر المعھود لما ورد فی الخبر شرار اُمّتی الذین یسرفون فی صب الماء اھـ۔

