وضوکےمسائل
اعضائے وضو کا تین بار دھونا کامل سنت ہے
سوال:۔
ہمارے اسلامیات کے اُستاد نے بتایا ہے کہ وضو کرتے وقت ہاتھ دھونا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، منہ دھونا وغیرہ جو کہ تین دفعہ دھویا جاتا ہے، دو دفعہ بھی دھویا جاسکتا ہے، کیا یہ دُرست ہے؟
جواب:۔
کامل سنت تین تین بار دھونا ہے، وضو دو بار دھونے بلکہ ایک ہی بار دھونے سے بھی ہوجائے گا، بشرطیکہ ایک بال کی جگہ بھی خشک نہ رہے۔(۱)
- (۱) عن علي أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم توضأ ثلاثًا ثلاثًا ۔۔۔ قال أبو عیسٰی: حدیث علي احسن شیء فی ھٰذا الباب وأصح والعمل علٰی ھٰذا عند عـامـۃ أھـل الـعـلم ان الـوضـوء یجـزیٔ مـرۃ مـرۃ ومرتین أفضل وأفضلہ ثلاث ولیس بعدہ شیء۔ (ترمذی ج:۱ ص:۸، باب ما جاء فی الوضوء ثلاثًا ثلاثًا)۔ أیضًا: ومنھـا (أی مـن سنن الـوضـوء) تكـرار الغسـل ثلاثًا فیما یفرض غسلہ نحو الیدین والوجہ والرجلین كذا فی المحیط، المرۃ الواحدۃ السابغۃ فی الغسل فرض۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۷، طبع رشیدیہ كوئٹہ)۔

