بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

بغیر وضو کئے محض نیت سے وضو نہیں ہوتا

سوال:۔

اکثر مقامات پر مساجد میں پانی کا انتظام نہیں ہوتا، اور پھر وضو کے لئے کافی تکلیف ہوجاتی ہے، میں نے سنا ہے کہ اگر کہیں پانی دستیاب نہ ہو تو وضو کی نیت کرنے سے وضو ہوجاتا ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ اگر وضو ہوسکتا ہے تو اس کی نیت بھی ایسے ہی کرنی ہوتی ہے جیسے ہم پانی کے ساتھ وضو کرتے وقت کرتے ہیں؟

جواب:۔

محض وضو کی نیت کرنے سے وضو نہیں ہوتا، آپ نے غلط سنا ہے۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی جگہ وضو کے لئے پانی دستیاب نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کیا جائے،(۱) اور پانی دستیاب نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پانی کم سے کم ایک میل دُور ہو، اس لئے شہر میں پانی کی دستیاب نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، جنگل میں ایسی صورت پیش آسکتی ہے۔(۲)

  1. (۱) قال أبوحنیفۃ رحمہ اللہ: لَا طھارۃ للصحیح إلّا بالماء أو بالصعید فی غیر الأمصار وغیر القریٰ إذا عدم الماء۔ قال أبوبكر: الأصل فیہ قولہ تعالٰی: ﵟ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ ٠٠٠٠٠فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗاﵞ۔ (شرح مختصر الطحاوی لأبی بكر الجصاص ج:۱ ص:۱۹۷ كتاب الطھارۃ، طبع دار البشائر الْإسلامیۃ، بیروت)۔
  2. (۲) أما العدم من حیث الصورۃ والمعنی فھو أن یكون الماء بعیدًا عنہ ولم یذكر حد البُعد فی ظاھر الروایۃ، وروی عن محمد انہ قدرہ بالمیل وھو أن یكون میلًا فصاعدًا فإن کان أقل من میل لم یجز التیمم۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۴۶)۔