بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

وضو میں نیت شرط نہیں

سوال:۔

وضو کرنے کے لئے نیت کرنا ضروری ہے، ہم نے کتاب میں پڑھا ہے کہ منہ ہاتھ دھونے میں وہی کام کیا جاتا ہے جو وضو کرنے میں کرتے ہیں۔ اگر وضو کی نیت نہیں کی گئی تو وضو نہیں ہوگا، بلکہ صرف منہ ہاتھ دھونا ہوا، اس کے علاوہ وضو میں جو فرائض ہیں وہی اگر چھوٹ گئے تو پھر وضو کیسے ہوا؟

جواب:۔

نیت کرنا وضو میں فرض نہیں،(۱) اگر منہ، ہاتھ، پاؤں دھو لئے جائیں اور سر کا مسح کرلیا جائے (کہ یہی چار چیزیں وضو میں فرض ہیں) تو وضو ہوجاتا ہے،(۲) البتہ وضو کا ثواب تب ملے گا جب وضو کی نیت بھی کی ہو۔(۳)

  1. (۱) وأما النیّۃ فلیست من الشرائط ۔۔۔ فیجوز الوضوء بدون النیّۃ۔ (بدائع ج:۱ ص:۱۷، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) قال تعالٰی: ﵟ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚﵞ المائدة ٦۔ ففرض الطھارۃ: غسل الأغضاء الثلاثۃ یعنی الوجہ والیدین والقدمین ۔۔۔ ومسح الرأس ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۴)۔
  3. (۳) قال الحنفیۃ: یسن للمتوضیٔ البدایۃ بالنیّۃ لتحصیل الثواب۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۱ ص:۲۲۵)۔ أیضًا: والنیۃ سُنَّۃ لتحصیل الثواب لأن المأمور بہ لیس إلّا غسلًا ومسحًا فی الآیۃ ولم یعلمہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للأعرابی مع جھلہ وفرضت فی التیمم لأنہ بالتراب ولیس مزیلًا للحدث بالْإصالۃ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۴۱)۔