وضوکےمسائل
مصنوعی ہاتھ کے ساتھ وضو کس طرح کریں؟
سوال:۔
عرض یہ ہے کہ مزدوری کے دوران میرا بایاں (اُلٹا) ہاتھ کلائی سے تھوڑا سا اُوپر تک کٹ گیا تھا، ابھی پلاسٹک کا مصنوعی ہاتھ لگا ہوا ہے، جسے سوتے وقت اُتارکر سوتا ہوں، ڈیوٹی پر آتے وقت پلاسٹک کا ہاتھ لگاکر آتا ہوں، لیکن اس ہاتھ کو لگاکر باندھنے کے لئے ایک آدمی کی ضرورت ہوتی ہے، میں خود سے نہیں باندھ سکتا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ میں وضو کس طرح کروں؟ پلاسٹک کے ہاتھ اُتارے بغیر وضو ہوگیا یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں کوئی صحیح طریقہ بتائیں، نوازش ہوگی۔
یاد رہے کہ پنجہ سمیت کلائی سے تھوڑا سا اُوپر تک کٹا ہوا ہے، ڈیوٹی کے دوران ظہر یا جمعہ کے وقت کے لئے وضو کیسے کروں؟ پلاسٹک کا ہاتھ اُتارے بغیر وضو ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔
اگر پلاسٹک کا ہاتھ اُتارا نہ جائے تو کیا اس کے نیچے ہاتھ کا وہ حصہ جو اس کے نیچے ہے، کیا خشک رہ جائے گا؟ یعنی پانی اس تک نہیں پہنچے گا؟ اگر پانی پہنچ سکتا ہے تو اس کو اُتارنے کی ضرورت نہیں، ورنہ اُتارنا ضروری ہے۔(۱)
- (۱) إن بقی من موضع الوضوء مقدار رأس إبرۃ أو لزق بأصل ظفرہ طین یابس أو رطب لم یجز۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۴، كتاب الطھارۃ، الفصل الأوّل، فرائض الوضوء)۔

