وضوکےمسائل
ناخنوں میں مٹی، آٹا یا اور چیز ہو تو وضو کا حکم
سوال:۔
کیا ناخنوں کے اندر مٹی کے ذَرّات یا مٹی یا کھانا کھاتے وقت کھانے کے ذَرّات وغیرہ چلے جائیں اور وضو کے بعد بھی وہ وہیں موجود ہوں تو کیا وضو ہوجائے گا؟ اور اگر کھانے کے ذَرّات یا گوشت کے ریشے منہ کے اندر دانتوں کے درمیان رہ جائیں تو کیا وضو ہوجائے گا؟ اور کچے علاقوں میں پیروں کے ناخنوں میں اکثر لوگوں کے مٹی جمی ہوتی ہے، تو کیا ان کا وضو اور غسل ہوجائے گا؟ اور دانتوں کے اندر کھانے یا گوشت کے ذَرّات اور ناخنوں کے اندر مٹی یا کھانے کے ذَرّات ہوں تو کیا غسل ہوجائے گا؟
جواب:۔
ناخنوں پر مٹی ہو تو وضو اور غسل ہوجاتا ہے،(۱) لیکن اگر آٹا یا کوئی اور چیز ہو جو جلد تک پانی کے پہنچنے کو روکتی ہے تو وضو اور غسل نہیں ہوتا،(۲) دانتوں میں اگر کوئی ایسی چیز پھنسی ہوئی ہو تو وضو ہوجائے گا، مگر غسل نہیں ہوگا۔(۳)
- (۱) وفی الجـامع الصغـیر: سئـل أبـو القـاسم عن وافـر الظـفر الذی یبقی فی أظـفـارہ الـدرن أو الـذی یعمـل عمـل الـطین أو المرأۃ التی صبغت اصبعھا بالحناء أو الصرام أو الصباغ، قال: كل ذٰلك سواء یجزیھم وضوئھم ۔۔۔الخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۴، كتاب الطھارۃ، فرائض الوضوء)۔
- (۲) إن بقی من موضع الوضوء مقدار رأس إبرۃ أو لزق بأصل ظفرہ طین یابس أو رطب لم یجز۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۴، كتاب الطھارۃ، الفصل الأوّل، فرائض الوضوء)۔
- (۳) ولـو کان سنہ مجوفا فبقی فیہ أو بین أسنانہ طعام أو درن رطب فی أنفہ تم غسلہ علی الأصح كذا فی الزاھدی والْإحتیاط أن یخرج الطعام عن تجویفہ ویجری الماء علیہ۔ ھٰكذا فی فتح القدیر والدرن الیابس فی الأنف یمنع تمام الغسل۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳)۔ أیضًا: فی الدر المختار: ولَا یمنع ما علٰی ظفر صباغ ولَا طعام بین أسنانہ أو فی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل إن صلبا منع وھو الأصح۔ وفی رد المحتار: أی إن كـان ممضوغًا مضغًا متأكدًا بحیث تداخلت أجزاؤہ وصار لہ لزوجۃ وعلاكۃ کالعجین شرح المنیۃ، قولہ وھو الأصح صرح بہ فی شـرح المنیـۃ وقـال لِامتنـاع نفوذ المـاء مع عدم الضرورۃ والحرج۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۱ ص:۱۵۴، مطلب فی ابحاث الغسل)۔

