بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

ہاتھ پر چوٹ لگی ہو تو کیا وضو کریں یا تیمم؟

سوال:۔

اگر ایک ہاتھ پر چوٹ لگ جائے، میرا مطلب ہے کہ چھری سے زخم ہو اور پٹی بندھی ہو اور پانی لگانے کی ممانعت ہو، تو کیا وضو ایک ہاتھ سے کریں گے یا تیمم کریں؟ پتھر پر تیمم جائز ہے، خواہ اس پر غبار نہ ہو۔ اس سے کیا مراد ہے؟ تیمم کا طریقہ بتادیں۔ ہمارے محلے کا پانی اکثر بند ہوجاتا ہے اور پانی نہ ہونے کی بنا پر ہم وضو نہیں کرسکتے، اس لئے نماز بھی نہیں پڑھتے، حالانکہ یہ گناہ کی بات ہے، ہمیں اب اس کا اِحساس ہوگیا ہے، لہٰذا برائے مہربانی تیمم کرنے کا طریقہ اور کس پتھر پر کریں؟ اس کی وضاحت کردیجئے۔

جواب:۔

اگر کوئی وضو کرانے والا ہو یا ایک ہاتھ سے وضو کرسکے تو وضو کرنا لازم ہے، زخم کی جگہ مسح کرلیا جائے۔ اور اگر وضو پر قدرت نہ ہو، تب تیمم جائز ہے۔(۱) پاک پتھر پر تیمم دُرست ہے، خواہ اس پر غبار نہ ہو، لیکن کچی مٹی کا ڈھیلا ہو تو اچھا ہے۔(۲) تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مارکر جھاڑ لیں اور منہ پر مل لیں، پھر دوبارہ دونوں ہاتھ مٹی پر مارکر جھاڑ لیں اور دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت مل لیں۔(۳) تیمم صرف اس صورت میں جائز ہے کہ پانی کے اِستعمال پر قدرت نہ ہو، یا پانی ایک میل دُور ہو۔ شہر میں تیمم جائز نہیں۔(۴)

  1. (۱) والأصل انہ متی أمكنہ إستعمال الماء من غیر لحوق ضرر فی نفسہ أو مالہ وجب إستعمالہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸)۔ أیضًا: إن وجد خادمًا أی من تلزمہ طاعتہ كعبدہ وولدہ وأجیرہ لَا یتیمم إتفاقًا وإن وجد غیرہ ممن لو استعان بہ أعانہ، ولو زوجتہ فظاھر المذھب أنہ لَا یتیمم أیضًا بلا خلاف۔ (شامی ج:۱ ص:۲۳۳ باب التیمم)۔
  2. (۲) وبالحجر علیہ غبار أو لم یكن بأن کان مغسولًا أو أملس مدقوقًا أو غیر مدقوق كذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۷)۔ ویجوز التیمم عند أبی حنیفۃ ومحمد بكل ما کان من جنس الأرض وھو ما إذا طبع لَا ینطبع ولَا یلین، وإذا احرق لَا یصیر رمادًا ۔۔۔ کالتراب والرمل إلٰی آخرہ قدم الترب لأنہ مجمع علیہ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۲)۔
  3. (۳) والتیمم ضربتان یمسح بإحداھما وجھہ وبالاُخریٰ یدیہ إلی المرفقین لقولہ علیہ السلام: التیمم ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین وینفض یدیہ بقدر ما یتناثر التراب كیلا یصیر مثلۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۵۰)۔ أیضًا: عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی التیمم: ضربۃ للوجہ وضربۃ للذراعین إلی المفرقین۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۱۷)۔
  4. (۴) ومن لم یجد الماء وھو مسافر أو کان خارج المصر وبینہ وبین المصر الذی فیہ الماء نحو المیل ھو المختار فی المقدار۔ (ھدایۃ) (واختیار) ومثلہ لو کان فی المصر وبینہ وبین الماء ھٰذا المقدار، لأن الشرط ھو العدم، فأینما تحقّق جاز التیمم (بحر)۔ عن (الأسرار) أكثر، وفی شرحہ: وإنما قال خارج المصر لأن المصر لَا یخلو عن الماء۔ (اللباب فی شرح الكتاب ج:۱ ص:۵۱، ۵۲، طبع قدیمی كتب خانہ)۔ أیضًا: ویتیمم فی غیر الأمصار والقریٰ إذا أعوز الماء۔ قال أبوبكر: وذالك لقول اللہ تعالٰی: ﵟ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا ﵞ(شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۴۱۴ باب التیمم)۔