بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو‌کے‌مسائل

وِگ کا استعمال اور وضو

سوال:۔

اگر ایک شخص بوجہ مجبوری سر پر ’’وِگ‘‘ کا استعمال کرتا ہے تو وہ شخص وضو کے دوران سر کا مسح وگ پر ہی کرسکتا ہے یا کہ اس کو مسح وگ اُتار کرنا چاہئے؟

جواب:۔

مصنوعی بالوں کا استعمال جائز نہیں،(۱) نہ اس کے استعمال میں کوئی مجبوری ہے۔ مسح ان کو اُتارکر کرنا چاہئے، اگر ان پر مسح کیا تو وضو نہیں ہوگا۔(۲)

  1. (۱) عن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ والواشمۃ والمستوشمۃ۔ متفق علیہ۔ (مشكوٰۃ ص:۳۸۱)۔ وفی المرقاۃ: قولہ لعن اللہ الواصلۃ أی التی توصل شعرھا بشعر آخر زورًا قولہ والمستوصلۃ أی التی تطلب ھٰذا الفعل من غیرھا وتأمر من یفعل بھا ذالك وھی تعمّ الرجل والمرأۃ فانث بإعتبار النفس أولَان الأكثر ان المرأۃ ھی الآمرۃ والراضیۃ قال النووی: الأحادیث صریح فی تحریم الوصول مطلقًا وھو الظاھر المختار وقد فصلہ أصحابنا فقالوا إن وصلت بشعر آدمی فھو حرام بلا خلاف لأنہ یحرم الْإنتفاع بشعرہ وسائر أجزائہ لکرامتہ وأما الشعر الطاھر من غیر آدمی فإن لم یكن لھا زوج ولَا سید فھو حرام أیضًا وإن کان فثلاثۃ أوجہ أصحھا إن فعلتہ بإذن الزوج والسید جاز وقال مالك والطبری والأكثرون الوصل ممنوع بكل شیء شعرًا أو صوف أو خرق أو غیرھا واحتجوا بالأحادیث وقال اللیثی النھی مختص بالشعر فلا بأس بوصلہ بصوف أو غیرہ وقال بعضھم یجوز بجمیع ذالك وھو مروی عن عائشۃ لٰـكن الصحیح عنھا كقول الجمھور۔ (مرقاۃ شرح مشكوٰۃ ج:۴ ص:۴۶۰، أیضًا: شامی ج:۶ ص:۳۷۳، نظام الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۸)۔
  2. (۲) لو مسحت علٰی شعر مستعار لَا یصح، لأن المسح علیہ کالمسح فوق غطاء الرأس، وھٰذا لَا یجزی فی الوضوء۔ (الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید، أحکام الطھارۃ ج:۱ ص:۶۹)، وأیضًا فی الشامیۃ: فلو مسح علٰی طرف ذؤابۃ شدت علٰی رأسہ لم یجز۔ (ج:۱ ص:۹۹، أرکان الوضوء أربعۃ، كتاب الطھارۃ)۔