وضوکےمسائل
وضو کے بعد عین نماز سے پہلے مسواک کرنا کیسا ہے؟
سوال:۔
میں اپنی پھوپھی کے ہاں ریاض گیا تھا، وہاں میں نے مسجد میں دیکھا، لوگ صفوں میں بیٹھے مسواک کر رہے ہیں، جب مکبّر نے تکبیر کہنی شروع کی تو انہوں نے پہلے مسواک کی اور کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی، جب نماز ختم ہوئی تو میں نے دریافت کیا کہ کیا اس طرح مسواک کرنا جائز ہے؟ تو اِمام صاحب نے فرمایا: یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اور وضو کرنے سے پہلے مسواک کرلیا کرو۔ میرے خیال میں نماز سے پہلے مسواک کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ عصر سے مغرب تک باوضو رہتے ہیں اور درمیان میں کچھ کھاتے پیتے رہتے ہیں تو ان کے لئے حکم یہ ہے کہ نماز سے پہلے مسواک کرکے کلی وغیرہ کرلیں۔
جواب:۔
ان اِمام صاحب نے جس حدیثِ پاک کا حوالہ دیا ہے، وہ یہ ہے:
’’لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۵، باب السواك)
ترجمہ:۔’’اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمت کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم کرتا۔‘‘
اس حدیث کے راویوں کا الفاظ کے نقل کرنے میں اختلاف ہے، بعض حضرات ’’عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ‘‘ کے الفاظ نقل کرتے ہیں، اور بعض اس کے بجائے ’’عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ‘‘ نقل کرتے ہیں، (صحیح بخاری ص:۲۵۹، ۱) یعنی ہر وضو کے وقت مسواک کا حکم کرتا۔(۱)
ان دونوں الفاظ کے پیشِ نظر حضرت اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک حدیث کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ہر نماز سے پہلے وضو کرنے اور ہر وضو کی ابتدا مسواک سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دینے سے مقصود یہ ہے کہ ہر نماز کے وضو سے پہلے مسواک کی جائے۔ عین نماز کے لئے کھڑے ہونے کے وقت مسواک کی ترغیب مقصود نہیں۔ اگر آدمی نماز کے لئے کھڑے ہوتے وقت مسواک کرے تو اندیشہ ہے کہ دانتوں سے خون نکل آئے جس سے وضو ساقط ہوجائے گا، اور جب وضو نہ رہا تو نماز بھی نہ ہوگی، اس لئے حضرت اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر نماز کے وضو سے پہلے مسواک کرنا سنت ہے، عین نماز کے وقت مسواک نہیں کی جاتی۔
علاوہ ازیں مسواک، منہ کی نظافت اور صفائی کے لئے کی جاتی ہے اور یہ مقصود اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جبکہ وضو کرتے ہوئے مسواک کی جائے اور پانی سے کلی کرکے منہ کو اچھی طرح صاف کرلیا جائے، نماز کے لئے کھڑے ہوتے وقت بغیر پانی اور کلی کے مسواک کرنے سے منہ کی نظافت اور صفائی حاصل نہیں ہوتی، جو مسواک سے مقصود ہے۔
سعودی حضرات چونکہ اِمام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مقلد ہیں، اور ان کے نزدیک خون نکل آنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس لئے نماز کے لئے کھڑے ہوتے وقت مسواک کرتے ہیں، اور حدیث شریف کا یہی منشا سمجھتے ہیں۔(۲)
- (۱) قال أبوھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لو لَا أن أشق علٰی اُمّتی لأمرتھم بالسواك عند كل وضوء۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۵۹، كتاب الصوم)۔
- (۲) فی الدر المختار: والسواك سُنَّۃ مؤكدۃ كما فی الجوھرۃ عندا لمضمضۃ وقیل قبلھا للوضوء عندنا إلّا إذا نسیہ فیندب للصلاۃ، وفی رد المحتار: قولہ عند المضمضۃ قال فی البحر: وعلیہ الأكثر، وھو الأولٰی لأنہ أكمل فی الْإنقاء قولہ وھو للوضوء عندنا أی سُنَّۃ للوضوء وعند الشافعی للصلاۃ قال فی البحر وقالوا: فائدۃ الخلاف تظھر فیمن صلٰی بوضوء واحد صلوات یكفیہ عندنا لَا عندہ، وعللہ السراج الھندی فی شرح الھدایۃ بأنہ إذا استاك للصلاۃ وبما خرج دم وھو نجس بالْإجماع وإن لم یكن ناقضًا عند الشافعی۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۱ ص:۱۱۳ وأیضًا فی البنایۃ فی شرح الھدایۃ ج:۱ ص:۹۵، ۹۶ أیضًا: إعلاء السُّنن ج:۱ ص:۲۹، باب السواك)۔

