بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

توہم‌پرستی

توہم‌پرستی‌کی‌باتیں

سوال:۔

عام طور پر ہمارے گھروں میں یہ توہم پرستی ہے اگر دیوار پر کوّا آکر بیٹھے تو کوئی آنے والا ہوتا ہے۔ پاؤں پر جھاڑو لگنا یا لگانا بُرا فعل ہے، شام کے وقت جھاڑو دینے سے گھر کی نیکیاں بھی چلی جاتی ہیں، دُودھ گرنا بُری بات ہے، کیونکہ دُودھ پوت (بیٹے) سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔

مثال:۔ ایک عورت بیٹھی ہوئی اپنے بچے کو دُودھ پلا رہی ہے، قریب ہی دُودھ چولہے یا انگیٹھی پر گرم ہو رہا ہے، اگر وہ اُبل کر گرنے لگے تو بیٹے کو دُور پھینک دے گی اور پہلے دُودھ کو بچائے گی۔

اگر کوئی اتفاق سے کنگھی کرکے اس میں جو بال لگ جاتے ہیں، وہ گھر میں کسی ایک کونے میں ڈال دے اور پھر کسی خاتون کی اس پر نظر پڑجائے تو وہ کہے گی کہ کسی نے ہم پر جادو ٹونہ کرایا ہے۔

ایسی ہی ہزاروں توہم پرستیاں ہمارے معاشرے میں داخل ہوچکی ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے آباء و اجداد قدیم زمانے سے ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ رہے ہیں، ان ہی کی رُسومات بھی ہمارے ماحول میں داخل ہوگئی ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی اصلاح فرمائیں۔

جواب:۔

ہمارے دِین میں توہم پرستی اور بدشگونی کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ نے جتنی مثالیں لکھی ہیں یہ سب غلط ہیں۔ البتہ دُودھ خدا کی نعمت ہے، اس کو ضائع ہونے سے بچانا اور اس کے لئے جلدی سے دوڑنا بالکل دُرست ہے۔ عورت کے سر کے بالوں کا حکم یہ ہے کہ ان کو پھینکا نہ جائے تاکہ کسی نامحرَم کی نظر ان پر نہ پڑے۔ باقی یہ بھی صحیح ہے کہ بعض لوگ عورت کے بالوں کے ذریعے جادو کرتے ہیں،(۱) مگر ہر ایک کے بارے میں یہ بدگمانی کرنا بالکل غلط ہے۔(۲)

  1. (۱) یدفن أربعۃ: الظفر والشعر وخرقۃ الحیض والدم، كذا فی الفتاویٰ العتابیۃ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۵۸)۔
  2. (۲) قال ابن عباس وعائشۃ رضی اللہ عنھما: کان غلام من الیھود یخدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فدبّت إلیہ الیھود فلم یزالوا حتّٰی أخذ مشاطۃ رأس النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعدّۃ أسنان من مشطۃ فأعطاھا الیھود فسحروہ فیھا ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۶ ص:۵۸۸، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔