بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

توہم‌پرستی

ہاتھ‌دِکھاکر‌قسمت‌معلوم‌کرنا‌گناہ‌ہے‌اور‌اس‌پر‌یقین‌رکھناکفر‌ہے

سوال:۔

ہاتھ دِکھاکر جو لوگ باتیں بتاتے ہیں، وہ کہاں تک صحیح ہوتی ہیں؟ اور کیا ان پر یقین کرنا چاہئے؟

جواب:۔

ایسے لوگوں کے پاس جانا گناہ اور ان کی باتوں پر یقین کرنا کفر ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کسی پنڈت نجومی یا قیافہ شناس کے پاس گیا اور اس سے کوئی بات دریافت کی تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی‘‘۔(۱) مسند احمد اور ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین شخصوں کے بارے میں فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دِین سے بَری ہیں۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی بات کی تصدیق کرے۔(۲)

  1. (۱) عن صفیۃ عن بعض أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من أتٰی عرَّافًا فسألہ عن شیء لم تقبل لہ صلوٰۃ أربعین لیلۃً۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۳۳، باب تحریم الکھانۃ وإتیان الکھان)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أتٰی کاھنا فصدّقہ بما یقول أو أتٰی امرأتہ حائضًا أو أتٰی امرأتہ فی دبرھا فقد بریٔ مما انزل علٰی محمد۔ رواہ أحمد وأبوداوٗد۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۳، باب الکھانۃ)۔