توہمپرستی
اعدادکےذریعےشادیکیکامیابیوناکامیمعلومکرنادُرستنہیں
سوال:۔
میں نے شادی میں کامیابی یا ناکامی معلوم کرنے کا طریقہ سیکھا ہے، جو اَعداد سے نکالا جاتا ہے۔ اس کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ کیونکہ غیب کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔
جواب:۔
غیب کا علم، جیسا کہ آپ نے لکھا ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔(۱) اس لئے علم الاعداد کی رُو سے جو شادی کی کامیابی و ناکامی معلوم کی جاتی ہے یا نومولود کے نام تجویز کئے جاتے ہیں، یہ محض اَٹکل پچو چیز ہے، اس پر یقین کرنا گناہ ہے،(۲) اس لئے اس کو قطعاً استعمال نہ کیا جائے، واللہ اعلم!
- (۱) العلم بالغیب أمر تفرّد بہ اللہ تعالٰی لَا سبیل إلیہ للعباد۔ (شرح عقائد ص:۱۷۰، طبع خیر کثیر کراچی)۔
- (۲) ان تصدیق الکاھن بما یخبرہ من الغیب کفر لقولہ تعالٰی: قل لَا یعلم من فی السمٰوٰت والأرض الغیب إلّا اللہ، ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: من أتٰی کاھنًا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما أنزل علٰی محمد، ثم الکاھن ھو الذی یخبر عن الکوائن فی مستقبل الزمان ویدّعی معرفۃ الأسرار فی المکان وقیل الکاھن الساحر والمنجّم إذا ادّعی العلم بالحوادث الآتیۃ فھو مثل الکاھن وفی معناہ الرّمّال وغیرھما کالضّارب بالحصٰی وما یعطی ھٰؤلَاء حرام بالْإجماع كما نقلہ البغوی والقاضی العیاض وغیرھما۔ (شرح فقہ أكبر ص:۱۸۲، طبع دھلی)۔

