توہمپرستی
علمالاعدادپریقینرکھناگناہہے
سوال:۔
آپ نے اخبار ’’جنگ‘‘ میں ایک صاحب کے ہاتھ دِکھاکر قسمت معلوم کرنے پر جو کچھ لکھا ہے میں اس سے بالکل مطمئن ہوں، مگر علم الاعداد اور علمِ نجوم میں بڑا فرق ہوتا ہے، اس علم میں یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص کے نام کو بحسابِ اَبجد ایک عدد کی صورت میں سامنے لایا جاتا ہے، اور پھر جب ’’عدد‘‘ سامنے آجاتا ہے تو علم الاعداد کا جاننے والا اس شخص کو اس کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کرسکتا ہے۔ ویسے بنیادی بات تو یہ ہے کہ اگر اس علم کو محض علم جاننے تک لیا جائے اور اگر اس میں کچھ غلط باتیں لکھی ہوں تو ان پر یقین نہ کیا جائے تو کیا یہ گناہ ہی ہوگا؟
جواب:۔
علمِ نجوم اور علم الاعداد میں مآل اور نتیجے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ وہاں ستاروں کی گردش اور ان کے اوضاع (اِجتماع و اِفتراق) سے قسمت پر اِستدلال کیا جاتا ہے، اور یہاں بحسابِ جمل اعداد نکال کر ان اعداد سے قسمت پر اِستدلال کیا جاتا ہے۔ گویا علمِ نجوم میں ستاروں کو اِنسانی قسمت پر اثرانداز سمجھا جاتا ہے، اور علم الاعداد میں نام کے اعداد کی تأثیرات کے نظریے پر اِیمان رکھا جاتا ہے۔ اوّل تو یہ کہ ان چیزوں کو مؤثرِ حقیقی سمجھنا ہی کفر ہے،(۱) علاوہ ازیں محض اَٹکل پچو اِتفاقی اُمور کو قطعی و یقینی سمجھنا بھی غلط ہے، لہٰذا اس علم پر یقین رکھنا گناہ ہے۔ اگر فرض کیجئے کہ اس سے اِعتقاد کی خرابی کا اندیشہ نہ ہو، نہ اس سے کسی مسلمان کو ضرر پہنچے، نہ اس کو یقینی اور قطعی سمجھا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا سیکھنا گناہ نہیں، مگر ان شرائط کے باوجود اس کے فعلِ عبث ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں۔(۲) ان چیزوں کی طرف توجہ کرنے سے آدمی دِین و دُنیا کی ضروری چیزوں پر توجہ نہیں دے سکتا۔
- (۱) وصناعۃ التنجیم التی مضمونھا الأحکام والتأثیر، وھو الْإستدلَال علی الحوادث الأرضیۃ بالأحوال الفلکیۃ ۔۔۔ صناعۃ محرمۃ بالکتاب والسُّنّۃ، بل ھی محرمۃ علٰی لسان جمیع المرسلین۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۵۶۸، طبع لَاھور)۔
- (۲) والتنجیم ۔۔۔ وانما زجر عنہ من ثلاثۃ أوجہ، أحدھا: أنہ مضر بأکثر الخلق، وثانیھا: أن أحکام النجوم تخمین محض، وثالثھا: انہ لَا فائدۃ فیہ۔ (فتاویٰ شامیہ ج:۱ ص:۴۴)۔

