توہمپرستی
ستاروںکےذریعےفالنکالنا
سوال:۔
ایک لڑکے کا رشتہ طے ہوا، لڑکی والوں نے تمام معلومات بھی کرلیں کہ لڑکا ٹھیک ٹھاک اور نیک ہے۔ پھر لڑکی والوں نے کہا کہ ہم تین دن بعد جواب دیں گے۔ ان کے گھرانے کے کوئی بزرگ ہیں جو اِمامِ مسجد بھی ہیں اور لڑکی والے ہر کام ان کے مشورے سے کرتے ہیں۔ جمعرات کے دن رات کو اِمام صاحب نے کوئی وظیفہ کیا اور جمعہ کو لڑکی والوں کو کہا کہ اس لڑکے اور لڑکی کا ستارہ آپس میں نہیں ملتا، یہاں شادی نہ کی جائے۔ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب سے آگاہ فرمائیں۔
جواب:۔
اسلام ستارہ شناسی کا قائل نہیں، نہ اس پر یقین رکھتا ہے۔ بلکہ حدیث میں اس پر بہت سخت مذمت آئی ہے۔(۱) وہ بزرگ اگر نیک اور باشرع ہیں تو ان کو اِستخارے کے ذریعے معلوم ہوا ہوگا، جو یقینی اور قطعی نہیں، اور اگر وہ کسی عمل کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں تو یہ جائز نہیں۔
- (۱) عن ابن عباس قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من اقتبس علمًا من النجوم اقتبس شعبۃ من السحر‘‘۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۸۹)۔ أیضًا ولَا إتباع قول من ادّعی الْإلھام فیما یخبر بہ عن إلھاماتہ بعد الأنبیاء ولَا إتّباع قول من ادّعی علم الحروف المتھجیات لأنّہ فی معنی الکاھن۔ (شرح فقہ أكبر ص:۱۸۲، طبع دھلی)۔

