توہمپرستی
جومنجمسےمستقبلکاحالپوچھے،اسکیچالیسدنکینمازقبولنہیںہوتی
سوال:۔
میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ستاروں کے علم پڑھنے سے یعنی جس طرح اخبارات اور رسالوں میں دیا ہوا ہوتا ہے کہ: ’’یہ ہفتہ آپ کا کیسا رہے گا؟‘‘ پڑھنے سے خدا تعالیٰ اس شخص کی چالیس دن تک دُعا قبول نہیں کرتا۔ جب میں نے یہ بات اپنے ایک عزیز دوست کو بتائی تو وہ کہنے لگا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں کہ خداوند تعالیٰ چالیس دن تک دُعا قبول نہیں کرتا۔ ویسے ستاروں کے علم پر تو میں یقین نہیں رکھتا، کیونکہ ایسی باتوں پر یقین رکھنے سے ایمان پر دیمک لگ جاتی ہے۔ تو اس سلسلے میں بتائیے کہ کس کا نظریہ دُرست ہے؟
جواب:۔
اس سوال کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم اور مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ:
’’جو شخص کسی ’’عراف‘‘ کے پاس گیا، پس اس سے کوئی بات دریافت کی تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔‘‘(۱) (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۳۳)
- (۱) عن صفیۃ عن بعض أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من أتٰی عرَّافًا فسألہ عن شیء لم تقبل لہ صلوٰۃ أربعین لیلۃً۔

