توہمپرستی
مستقبلکےمتعلققیاسآرائیاںاوراُنپریقینکرنا
سوال:۔
میرے دادا صوم و صلوٰۃ کے سختی سے پابند ہیں، پانچوں وقت کی نماز کے ساتھ ساتھ تہجد اور اِشراق کی نمازیں بھی ادا کرتے ہیں، ہفتے میں تین دن روزہ بھی رکھتے ہیں، اللہ کے فضل و کرم سے اس سال حج بھی کر آئے ہیں، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ایک ایسی بات ہے جس نے ہم سب گھر والوں کو پریشان کر رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ جمعہ کو ’’جنگ‘‘ اخبار باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں، جس میں آپ کا کالم بھی شائع ہوتا ہے، لیکن خاص طور پر ’’یہ ہفتہ کیسا رہے گا؟‘‘ اس پر ان کا اعتقاد اِتنا زیادہ ہے کہ اگر اس میں لکھا ہو کہ آج دن خراب رہے گا تو سارا دن گھر سے باہر نہیں نکلتے، اگر لکھا ہو کہ آج طبیعت خراب رہے گی تو لیٹ جاتے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ ہمارے دادا کا یہ عمل کیسا ہے؟
جواب:۔
مستقبل کے بارے میں جو اس قسم کی پیش گوئیاں کی جاتی ہیں، ان پر یقین کرنا جائز نہیں۔(۱) آپ کے دادا کو چاہئے کہ اس سلسلے میں کسی محقق عالم سے گفتگو کرکے اپنی تسلی کرلیں اور توہم پرستی چھوڑ دیں۔
- (۱) فلا یجوز إتباع المنجّم والرّمّال وغیرھما کالضارب بالحصٰی۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۸۲، طبع دھلی)۔

