توہمپرستی
اہلِنجومپراِعتماددُرستنہیں
سوال:۔
اکثر اہلِ نجوم کہتے ہیں کہ سال میں ایک دن، ایک مقرّرہ وقت ایسا آتا ہے کہ اس مقرّرہ وقت میں جو دُعا بھی مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ اور ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اس مقرّرہ وقت میں اَن پڑھ لوگوں کی اکثریت دُعائیں مانگنے میں مصروف رہتی ہے۔ مہربانی فرماکر بتائیے کہ کیا دُعائیں صرف ایک مقرّرہ وقت میں اور وہ بھی سال میں ایک دن قبول ہوتی ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سال کے باقی دنوں میں دُعائیں نہ مانگی جائیں؟
جواب:۔
اسلام کے نقطۂ نظر سے تو چوبیس گھنٹے میں ایک وقت (جس کی تعیین نہیں کی گئی) ایسا آتا ہے جس میں دُعا قبول ہوتی ہے۔(۱) باقی نجوم پر مجھے نہ عقیدہ ہے، نہ عقیدہ رکھنے کو صحیح سمجھتا ہوں۔(۲)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان ﷲ عتقاء فی کل یوم ولیلۃ عبیدًا وإماءً یعتقھم من النار، وان لكل عبد مسلم دعوۃ مستجابۃ یدعوھا فتستجاب۔ (حلیۃ الأولیاء ج:۸ ص:۲۵۷)۔
- (۲) فإنہ إذا ألقی إلیھم أن ھٰذہ الآثار تحدث عقیب منیر الکواكب وقع فی نفوسھم أنھا المؤثرۃ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۴)۔

