بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

توہم‌پرستی

شادی‌کے‌لئے‌ستارے‌ملانا

سوال:۔

آج کل نئے دور میں شادی کے لئے جس طرح ہندو پنڈت جنم کنڈلی ملاتے ہیں، ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی طرح کی رسم کو اِختیار کرتے ہوئے ستارہ ملاتے ہیں، یعنی لڑکے کی ماں اور لڑکے کے نام، لڑکی کی ماں اور لڑکی کے نام کے اعداد نکال کر ضرب، جمع، تقسیم، تفریق کرتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کے لئے اسلام میں کیا حکم ہے؟

جواب:۔

اسلام نہ ستاروں کی تأثیر کا قائل ہے، اور نہ علمِ نجوم پر اِعتماد کرنے کا قائل ہے، لہٰذا مسلمانوں کے لئے یہ عمل جائز نہیں۔ قسمت کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی پر اِعتماد کرکے اس کے حکم کے مطابق کام کیا جائے تو برکت ہوتی ہے، سکون نصیب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ راحت و اطمینان کی زندگی نصیب فرماتے ہیں۔ اور جو شخص اعتماد علی اللہ کے مضبوط حلقے کو چھوڑ کر ستاروں اور نجومیوں سے اپنی قسمت وابستہ کرے، وہ ہمیشہ بے چین و بے سکون رہے گا۔(۱)

  1. (۱) عن حفصۃ رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أتی عرّافًا فسألہ عن شیء لم یقبل لہ صلٰوۃ أربعین لیلۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۳، باب الکھانۃ، الفصل الأوّل)۔