توہمپرستی
دستشناسیاورعلمالاعدادکاسیکھنا
سوال:۔
میرا سوال یہ ہے کہ علم پامسٹری، علم کیرل، علم جفر، دست شناسی، قیافہ شناسی وغیرہ اور پیش گوئی سے بہت سے لوگ مستقبل کے بارے میں ذاتی یا قومی باتیں بتاتے ہیں، مثلاً: دست شناسی میں ہاتھ دیکھ کر مستقبل اور اچھائی بُرائی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اسی طرح علم اعداد کے تحت لوگوں کا مستقبل بتایا جاتا ہے، میرے ذہن میں یہ سوال ہے کہ آیا یہ سب علوم دُرست ہیں؟ کیا ان پر یقین کرنا صحیح فعل ہے؟ یاد رہے کہ بعض اوقات ان لوگوں کی کہی ہوئی بات سو فیصدی صحیح ہوتی ہے اور اکثر لوگ ان کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں، اور بعض مایوسی کا شکار ہوکر غلط اقدامات کر بیٹھتے ہیں۔ مجھے اُمید ہے آپ میرے اس سوال کا جواب ضرور دیں گے۔
جواب:۔
ان علوم کے بارے میں چند باتوں کو سمجھ لینا ضروری ہے۔
اوّل:۔ مستقبل بینی کے جتنے طریقے ہیں، سوائے انبیاء علیہم السلام کی وحی کے، ان میں سے کوئی بھی قطعی و یقینی نہیں،(۱) بلکہ وہ اکثر حساب اور تجربے پر مبنی ہیں، اور تجربہ و حساب کبھی صحیح ہوتا ہے، کبھی غلط۔ اس لئے ان علوم کے ذریعے کسی چیز کی قطعی پیش گوئی ممکن نہیں کہ وہ لازماً صحیح نکلے، بلکہ وہ صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔(۲)
دوم:۔ کسی غیریقینی چیز کو یقینی اور قطعاً سمجھ لینا عقیدہ اور عمل میں فساد کا موجب ہے، اس لئے ان علوم کے نتائج پر سو فیصد یقین کرلینا ممنوع ہے کہ اکثر عوام ان کو یقینی سمجھ لیتے ہیں۔
سوم:۔ مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں دو قسم کی ہیں، بعض تو ایسی ہیں کہ آدمی ان کا تدارک کرسکتا ہے، اور بعض ایسی ہیں کہ ان کا تدارک ممکن نہیں۔ ان علوم کے ذریعے اکثر پیش گوئیاں اسی قسم کی کی جاتی ہیں جن سے سوائے تشویش کے اور کوئی نفع نہیں ہوتا، جیسا کہ سوال میں بھی اس طرح اشارہ کیا گیا ہے، اس لئے ان علوم کو علومِ غیرمحمودہ میں شمار کیا گیا ہے۔
چہارم:۔ ان علوم کی خاصیت یہ ہے کہ جن لوگوں کا ان سے اشتغال بڑھ جاتا ہے، خواہ تعلیم و تعلّم کے اعتبار سے، یا اِستفادے کے اعتبار سے، ان کو اللہ تعالیٰ سے صحیح تعلق نہیں رہتا، یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور خصوصاً ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو ان علوم میں مشغول نہیں ہونے دیا، بلکہ ان کے اشتغال کو ناپسند فرمایا ہے،(۳) اور انبیاء علیہم السلام کے سچے جانشین بھی ان علوم میں اشتغال کو پسند نہیں کرتے۔ پس ان علوم میں سے جو اَپنی ذات کے اعتبار سے مباح ہوں، وہ ان عوارض کی وجہ سے لائقِ احتراز ہوں گے۔
- (۱) والخبر بالغیب من النبی لَا یکون إلّا صدقًا ولَا یقع إلّا حقًّا۔ (فتح الباری ج:۱۲ ص:۳۶۳، طبع لَاھور)۔
- (۲) وبالجملۃ العلم بالغیب أمر تفرّد بہ اللہ تعالٰی لَا سبیل إلیہ للعباد إلّا بالْإعلام منہ أو إلھام بطریق المعجزۃ أو الکرامۃ أو إرشاد إلی الْإستدلَال بالْامارات فیما یمکن فیہ ذٰلك ولھٰذا ذکر فی الفتاویٰ ان قول القائل عند رؤیۃ ھالۃ القمر بکون مطر مدّعیًا علم الغیب لَا بعلامتہ کفر۔ (شرح عقائد ص:۱۷۰، طبع خیر کثیر کراچی)۔
- (۳) عن معاویۃ بن الحكم قال: قلت: یا رسول اللہ! اُمورًا كنا نصنعھا فی الجاھلیۃ، كنا نأتی الکھان؟ قال: فلا تأتوا الکھان، قال: قلت: كنا نتطیر؟ قال: ذٰلك شیء یجدہ أحدكم فی نفسہ فلا یصدّنكم۔ قال: قلت: ومنّا رجال یخطون خطا؟ قال: کان نبی من الأنبیاء یخط فمن وافق خطّہ فذاك۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۲) وعن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أتٰی کاھنًا فصدقہ بما یقول ۔۔۔ فقد بریٔ مما اُنزل علٰی محمد۔ رواہ أحمد وابوداوٗد۔ (مشکوٰۃ ص:۳۹۳، باب الکھانۃ، الفصل الثانی)۔

