توہمپرستی
قرآنمجیدسےفالنکالناحراماورگناہہے،اسفالکواللہکاحکمسمجھناغلطہے
سوال:۔
ہم چار بہنیں ہیں، والد چار سال پہلے انتقال کرچکے ہیں، والدہ حیات ہیں، میں سب سے چھوٹی ہوں، مجھ سے بڑی تینوں بہنیں غیرشادی شدہ ہیں، ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم سنی (مسلمان) گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارے کچھ دُور کے رشتہ دار ہیں جو کہ قادیانیوں میں سے ہیں، ہمارا ان کے ساتھ کوئی خاص میل جول نہیں ہے۔ میرے والد کی وفات کے بعد ان لوگوں نے میری بڑی بہن کے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ بھیجا، امی نے انکار تو نہ کیا (اقرار بھی نہ کیا)، لیکن سوچنے کے لئے کچھ وقت مانگا، میری امی کو میری نانی نے مشورہ دیا کہ قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے پوچھا جائے۔ آپ کو ایک بات بتاؤں کہ میرے ابو میں چند ایسی عادتیں تھیں جن کی وجہ سے نہ صرف امی بلکہ ہم چاروں بھی بہت پریشان تھیں۔ امی نے قرآن مجید سے ابو کے بارے میں سوال پوچھا تو اس میں واضح طور پر جواب تھا کہ: ’’بس یہ ایک آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے سو ایک خاص وقت (یعنی اس کے مرنے کے وقت) تک اس کی حالت کا انتظار کرلو‘‘ (سورۃ المؤمنون کی ۲۵ویں آیت)۔
سو میرا باپ مرنے تک صحیح نہ ہوسکا، قرآن میں واضح طور پر جواب مل گیا تھا، اس لئے ہم سب کو پختہ یقین تھا کہ ہم کو قرآن پاک ہی صحیح مشورہ دے گا۔ اس لئے جب یہ رشتہ آیا تو امی نے بہت ہی پریشانی کے عالم میں یہ سوال پوچھا کہ: ’’ہم مسلمان ہیں اور لڑکا غیرمسلم ماں باپ کا بیٹا ہے، اس لئے تھوڑی سی خلش ہے، کیا ہم وہاں ہاں کردیں؟‘‘ تو قرآن پاک میں یہ جواب آیا تھا کہ: ’’اور بڑی رضامندی اور (جنت کے) ایسے باغوں کی، کہ ان کے لئے ان (باغوں) میں دائمی نعمت ہوگی (اور) ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اَجر ہے‘‘ (سورۃ التوبہ کی ۲۱ویں آیت)۔
سب کو یہ جواب پڑھ کر تسلی ہوئی لیکن بعض رشتہ دار اور خود میری بہن صرف اس وجہ سے انکاری تھے کہ وہ غیرمسلم ہیں، اس لئے امی مزید پریشان ہوگئی ہیں اور بیمار پڑگئی ہیں، امی نے ایک مرتبہ پھر قرآن مجید میں پوچھا تو آپ یقین نہیں کریں گے کہ اس میں واضح طور پر یہ الفاظ تھے کہ: ’’آپ کی مدد اس وقت کرچکا ہے‘‘ (سورۃ التوبہ کی چالیسویں آیت)۔ چونکہ قرآن مجید چھوٹے بڑے ہوتے ہیں اور ہمارا قرآن پاک چھوٹا ہے، اس لئے صفحہ جب شروع ہوتا ہے تو یہی الفاظ جو میں نے بیان کئے ہیں الگ الگ صفحات پر درج ہیں، یہ میں آپ کو اس لئے بتارہی ہوں کہ جب آپ ان آیات کا ترجمہ پڑھیں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے قرآن مجید میں وہ آگے پیچھے ہوں۔ آپ بھی مسلمان ہیں اور قرآن مجید کے ایک ایک حرف پر یقین رکھتے ہیں، مجھے احساس ہے کہ آپ دُوسرے علماء کی طرح غیرمسلموں کو بُرا سمجھتے ہیں، ہم بہت پریشان ہیں، اب انکار بھی نہیں کرسکتے، کیونکہ ہم نے قرآن سے پوچھ لیا تو سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ لیا، اور اگر ہم نے نہ کردی تو اللہ تعالیٰ نہ جانے ہمارے لئے کون سی سزائیں منتخب کرے گا؟
مجھے احساس ہے کہ آپ کا کیا جواب ہوگا لیکن بس آپ میری یہ مشکل حل کردیں۔ آیا ہم قرآن مجید سے پوچھنے کے باوجود ’’نہ‘‘ کرسکتے ہیں، جبکہ قرآن مجید میں جو الفاظ آئے ہیں، وہ اُوپر بیان کئے جاچکے ہیں۔
’’سوال:۔ ایک لڑکی کے کچھ زیوارت کسی نے اُتار لئے، لوگوں کا خیال ایک شخص کی طرف گیا اور فال کلام مجید سے نکالی گئی اور اسی شخص کا نام نکلا جس کی طرف خیال گیا تھا، اس کو جب معلوم ہوا تو اس نے مسجد میں جاکر قرآن مجید کے چند ورق پھاڑ لئے اور ان پر پیشاب کردیا۔ (نعوذ باللہ!) اور کہنے لگا کہ قرآن مجید بھی جھوٹا اور مولوی بھی سالا جھوٹا۔ آیا یہ شخص اسلام میں داخل ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور ہوسکتا ہے تو کیسے؟
جواب:۔
آپ کے سوال میں چند اُمور توجہ طلب ہیں، ان کو الگ الگ لکھتا ہوں۔
اوّل:۔ قادیانی باجماعِ اُمت مرتد اور زِندیق ہیں، کسی مسلمان لڑکی کا کسی کافر سے نکاح نہیں ہوسکتا،(۱) اس لئے اپنی بچی کافر کے حوالے ہرگز نہ کیجئے، ورنہ ساری عمر زنا اور بدکاری کا وبال ہوگا اور اس گناہ میں آپ دونوں ماں بیٹی بھی شریک ہوں گی۔
دوم:۔ قرآن مجید سے فال دیکھنا حرام اور گناہ ہے،(۲) اور اس فال کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھنا نادانی ہے، کیونکہ قرآن مجید کے صفحے مختلف ہوسکتے ہیں، ایک شخص فال کھولے گا تو کوئی آیت نکلے گی اور دُوسرا کھولے گا تو دُوسری آیت نکلے گی، جو مضمون میں پہلی آیت سے مختلف ہوگی۔ پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآنِ کریم سے فال نکال کر کسی شخص نے کوئی کام کیا اور اس کا انجام اچھا نہ نکلا تو قرآنِ کریم سے بدعقیدگی پیدا ہوگی، جس کا نتیجہ کفر تک نکل سکتا ہے۔ بہرحال علمائے اُمت نے اس کو ناجائز اور گناہ فرمایا ہے، چنانچہ مفتی کفایت اللہ کے مجموعہ فتاویٰ ’’کفایۃ المفتی‘‘ میں ہے:
جواب:۔
شریعت میں فال نکالنا منع ہے، اور اس کے منع ہونے کی دو وجہیں ہیں۔ اوّل تو یہ کہ علمِ غیب خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، ممکن ہے کہ نام غلط نکلے اور پھر جس کا نام نکلے خدانخواستہ کہیں وہ ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جیسے اس شخص نے کی۔ شریعت کے اَحکام کی خلاف ورزی کا یہی نتیجہ ہوتا ہے جو آپ نے دیکھا۔ جس شخص نے کلام مجید او رمولویوں کے ساتھ ایسی گستاخیاں کی ہیں وہ کافر ہے، لیکن نہ ایسا کافر کہ کبھی اسلام میں داخل نہ ہوسکے، بلکہ جدید توبہ سے وہ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے۔ آئندہ فال نکالنے سے اِحتراز چاہئے تاکہ فال نکال کر نام نکالنے والے شخص کی طرح خود بھی اور جس کا نام نکلا تھا اسے بھی گناہ گار نہ کریں۔ اس شخص سے توبہ کرانے کے بعد اس کی بیوی سے تجدیدِ نکاح لازم ہے۔‘‘ (کفایت المفتی ج:۹ ص:۱۲۹)
ایک اور سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
’’جواب:۔ قرآن مجید سے فال نکالنی ناجائز ہے، فال نکالنی اور اس پر عقیدہ کرنا کسی اور کتاب (مثلاً دیوانِ حافظ یا گلستان وغیرہ) سے بھی ناجائز ہے، مگر قرآن مجید سے نکالنی تو سخت گناہ ہے کہ اس سے بسااوقات قرآن مجید کی توہین یا اس کی جانب سے بدعقیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘ (کفایۃ المفتی ج:۹ ص:۲۲۱)
ایک اور جگہ مفتی صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’چور کا نام نکالنے کے لئے قرآن مجید سے فال لینا ناجائز ہے اور اس کو یہ سمجھنا کہ یہ قرآن مجید کو ماننا یا نہ ماننا ہے، غلط ہے۔ اس لئے حافظ صاحب کا یہ کہنا کہ: تم قرآن مجید کو مانتے ہو تو زید کے دس روپے دے دو، کیونکہ قرآن مجید نے تمہیں چور بتایا ہے۔ یہ بھی صحیح نہیں تھا۔‘‘ (ایضاً ص:۲۲۳)
پس آپ کا اور آپ کی والدہ کا اس ناجائز فعل کو حجت سمجھنا قطعاً غلط اور گناہ ہے، اس سے توبہ کرنی چاہئے۔
سوم:۔ آپ کی والدہ نے آپ کے والد صاحب کے بارے میں سورۃ المؤمنون کی آیت نمبر:۲۵ کی جو یہ فال نکالی تھی:
’’بس یہ ایک آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے، سو ایک خاص وقت (یعنی اس کے مرنے کے وقت) تک اس کی حالت کا انتظار کرو۔‘‘(۳)
قرآن مجید کھول کر اس سے آگے پیچھے پڑھ لیجئے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافروں کا قول نقل کیا ہے جو وہ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ اب اگر یہ قول صحیح ہے تو آپ کے والد صاحب کی مثال نوح علیہ السلام کی ہوئی اور آپ کی والدہ کی مثال قومِ نوح کے کافروں کی ہوئی، کیا آپ اور آپ کی والدہ اس مثال کو اپنے لئے پسند کریں گے۔۔۔؟ فرمانِ خدا (جس کا آپ حوالہ دے رہی ہیں) تو یہ ہے کہ اس فقرے کے کہنے والے کافر ہیں اور جس شخص کے بارے میں یہ فقرہ کہا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہے۔ میں تو قرآنِ کریم کے لفظ لفظ پر اِیمان رکھتا ہوں، کیا آپ بھی اس فرمانِ خدا پر اِیمان رکھیں گے۔۔۔؟
چہارم:۔ اب کافر لڑکے کے بارے میں آپ کی والدہ نے سورۂ توبہ سے جو فال نکالی اس کو دیکھئے! اس سے اُوپر کی آیت میں ان اہلِ ایمان کا ذکر ہے جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، چنانچہ ارشاد ہے: ’’جو لوگ ایمان لائے اور (اللہ کے واسطے) انہوں نے ترکِ وطن کیا اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کیا۔‘‘ انہی کے بارے میں فرمایا ہے:
’’ان کا رَبّ ان کو بشارت دیتا ہے، اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بڑی رضامندی اور (جنت کے) ایسے باغوں کی، کہ ان کے لئے ان (باغوں) میں دائمی نعمت ہوگی اور ان میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اَجر ہے۔‘‘(۴)
کیا دُنیا کا کوئی عقل مند ان آیات کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کامل اہلِ ایمان اور مہاجرین و مجاہدین کے بارے میں نازل ہوئیں، فال کھول کر فاسقوں، بدکاروں اور کافروں، مرتدوں پر چسپاں کرنے لگے گا اور اس کو فرمانِ الٰہی سمجھ کر لوگوں کے سامنے کرے گا۔۔۔؟ اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہے:
’’اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو (اپنا) رفیق مت بناؤ، اگر وہ لوگ کفر کو بمقابلہ ایمان کے (ایسا) عزیز رکھیں (کہ ان کے ایمان لانے کی اُمید نہ رہے) اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت رکھے گا، سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں۔‘‘(۵) (التوبہ:۲۳)
اس آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ جو کافر، کفر کو اِیمان پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ وہ تمہارے کیسے ہی عزیز ہوں، خواہ باپ، بھائی اور بیٹے ہی کیوں نہ ہوں، ان کو اپنا دوست و رفیق نہ بناؤ اور ان سے محبت و مودّت کا کوئی رشتہ نہ رکھو، اور تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ جو شخص ایسا کرے گا اس کا نام ظالموں اور خدا کے نافرمانوں میں لکھا جائے گا۔ اب بتائیے کہ جن قادیانی مرتدوں نے اِیمان پر کفر کو ترجیح دے رکھی ہے، اور جنھوں نے قادیان کے غلام احمد کو ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ ’’محمد رسول اللہ‘‘ بنا رکھا ہے، ایسے کافروں کو اَپنی بیٹی اور بہن دے کر آپ کس زُمرے میں شمار ہوں گی؟ اللہ تعالیٰ تو ایسے لوگوں کا نام ظالم رکھتا ہے، آپ اپنے لئے کون سا نام پسند کریں گی۔۔۔؟
پنجم:۔ آپ کی امی نے تیسری فال قادیانیوں کے کافر قرار دئیے جانے پر نکالی اور اس میں یہ الفاظ نکلے:
’’آپ کی مدد اس وقت کرچکا ہے۔‘‘
ذرا اس پوری آیت کو پڑھ کر دیکھئے کہ یہ کس کے بارے میں ہے؟ یہ آیتِ مقدسہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے، مکہ کے کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکال دیا تھا اس کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو فرماتے ہیں:
’’اگر تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اس وقت کرچکا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں نے جلاوطن کردیا تھا، جبکہ دو آدمیوں میں ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جس وقت کہ دونوں غار میں تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہمراہی سے فرما رہے تھے کہ تم کچھ غم نہ کرو، یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ہمراہ ہے۔‘‘(۶)
مکہ سے نکالنے والے مکہ کے کافر تھے، اور جن کو نکالا گیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یارِ غار حضرت صدیق اکبرؓ تھے۔ آپ کی امی فال کے ذریعے قادیانیوں پر اس آیت کو چسپاں کرکے قادیانیوں کو ۔۔۔نعوذ باللہ!۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مماثل بنا رہی ہیں اور تمام اُمتِ مسلمہ کو، جس نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا ہے، مکہ کے کافر بنارہی ہیں۔ یہ ہیں آپ کی امی کی کھولی ہوئی فال کے کرشمے! اور لطف یہ ہے کہ آپ قرآنِ کریم کے معنی و مفہوم سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ان کرشموں کو خدا کا فرمان بتارہی ہیں۔ خدا کے لئے ان باتوں سے توبہ کیجئے، اور اپنا اِیمان برباد نہ کیجئے۔ اس قادیانی مرتد کو ہرگز لڑکی نہ دیجئے، کیونکہ میں اُوپر فرمانِ خداوندی نقل کرچکا ہوں کہ ایسے کافروں سے دوستی اور رشتہ ناطہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ظالم اور نافرمان ٹھہرایا ہے۔ اگر آپ نے اس فرمانِ الٰہی کی پروا نہ کی اور لڑکی قادیانی مرتد کو دے دی، تو اس ظلم کی ایسی سزا دُنیا و آخرت میں ملے گی کہ تمہاری آئندہ نسلیں بھی اسے یاد رکھیں گی۔۔۔!
- (۱) ولَا یجوز للمرتد أن یتزوّج مرتدّۃ، ولَا مسلمۃ، ولَا کافرۃ أصلیۃ، وكذٰلك لَا یجوز نکاح المرتدّۃ مع أحد، كذا فی المبسوط، ولَا یجوز تزوّج المسلمۃ من مشرك، ولَا کتابی، كذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲)۔
- (۲) ومن جملۃ علم الحروف فال المصحف یفتتحونہ وینظرون فی أوّل الصفحۃ أیُّ حرف وافقہ وكذا فی سابع الورقۃ السابعۃ ۔۔۔ حكموا بأنہ غیر مستحسن وقد صرح ابن العجمی فی منسکہ وقال: لَا یأخذ الفال من المصحف ۔۔۔ ونص المالکیۃ علٰی تحریمہ۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۸۲، ۱۸۳)۔
- (۳) ﵟ إِنۡ هُوَ إِلَّا رَجُلُۢ بِهِۦ جِنَّةٞ فَتَرَبَّصُواْ بِهِۦ حَتَّىٰ حِينٖ ٢٥ ﵞ المؤمنون ٢٥۔
- (۴) ﵟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ أَعۡظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٢٠ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُم بِرَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَرِضۡوَٰنٖ وَجَنَّٰتٖ لَّهُمۡ فِيهَا نَعِيمٞ مُّقِيمٌ ٢١ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ ٢٢ ﵞ(التوبة ٢٠ الي ٢٢)۔
- (۵) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٣ ﵞ التوبة ٢٣۔
- (۶) ﵟ إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذۡ أَخۡرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ ٱثۡنَيۡنِ إِذۡ هُمَا فِي ٱلۡغَارِ إِذۡ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَاۖ ﵞ التوبة ٤٠۔

