توہمپرستی
’’نوروز‘‘کینمازاسلامکینظرمیں
سوال:۔
گزارش ہے کہ مورخہ ۲۵؍اپریل کے ’’جنگ‘‘ کے جمعہ ایڈیشن میں ’’نوروز‘‘ کے متعلق ایک سائل کا سوال اور آپ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھ کر میں بڑی اُلجھن میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ میری طرح دُوسرے ہزاروں لوگوں کی بھی غالباً یہی حالت ہوئی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک معتبر اخبار میں ’’اعمالِ نوروز‘‘ کے متعلق قرآن اور احادیث کے حوالوں سے یہ مضمون پڑھ کر خود میں نے بعد نمازِ ظہر یہ ’’نمازِ نوروز‘‘ پڑھی تھی۔ فطری بات ہے کہ میری طرح دُوسرے ہزاروں بے خبر لوگوں نے بھی لازمی طور پر یہ نمازِ نوروز پڑھی ہوگی۔ آپ کے مستند جواب کے مطابق جب ہماری شریعت میں نوروز کی کوئی اہمیت یا جواز ہی نہیں ہے، تو اَب ہم لوگ بڑی اُلجھن اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ کیا اس کے لئے کوئی کفارہ ادا کرنا ہوگا؟ برائے مہربانی بذریعہ ’’جنگ‘‘ مفصل جواب عنایت فرمائیں، تاکہ میرے علاوہ دُوسرے ہزاروں لوگوں کی رہنمائی ہوسکے اور وہ بھی اپنی غلطی کا تدارک کرسکیں، عین نوازش ہوگی۔
جواب:۔
’’نوروز‘‘ مجوسیوں کا دن ہے، اسلامی شریعت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ بلکہ حضراتِ فقہاء نے ’’نوروز‘‘ کی تعظیم کو کفر قرار دیا ہے۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری (طبع بلوچستان بک ڈپو ج:۲ ص۲۷۶، ۲۷۷) میں ہے:(۱)
ترجمہ:۔ ’’نوروز کے دن مجوسی لوگ جو اَفعال کرتے ہیں، ان کے ساتھ ان افعال میں موافقت کرنا محض ’’نوروز‘‘ کی تعظیم کی خاطر اس دن کوئی خاص چیز خریدنا اور ’’نوروز‘‘ منانے کے لئے مجوسیوں کو کوئی تحفہ بھیجنا، خواہ ایک انڈا ہی کیوں نہ بھیجا جائے، یہ تمام اُمور کفر ہیں۔‘‘
اس سے واضح ہے کہ اگر ہماری شریعت میں ’’نوروز‘‘ کی کوئی اہمیت ہوتی تو اس دن کی تعظیم کو کفر سے تعبیر نہ کیا جاتا۔ مگر آپ معذور تھے، آپ نے جو کچھ کیا وہ اس غلط فہمی کی بنا پر کیا ہے کہ یہ ایک اسلامی دن ہے، اور اس کا وبال اور گناہ اس شخص پر ہے جس نے ’’نوروز کی عظمت‘‘ قرآن و حدیث کے غلط حوالوں سے ثابت کرکے مسلمانوں کو غلط فہمی میں ڈالا۔ البتہ اتنی کوتاہی آپ سے بھی ہوئی کہ ایک اخباری مضمون پڑھ کر، جس کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ لکھنے والا کس ذہن اور عقیدے کا آدمی ہے، آپ نے عمل کرڈالا، اور کسی محقق عالم سے دریافت کرنے کی زحمت نہیں فرمائی۔ اس کا تدارک توبہ و اِستغفار سے کیجئے۔
- (۱) یکفر ۔۔۔ وبخروجہ الٰی نیروز المجوس لموافقتہ معھم فیما یفعلون فی ذٰلك الیوم وبشرائہ یوم النیروز شیئًا لم یكن یشتریہ قبل ذٰلك تعظیمًا للنیروز لَا للأكل والشرب وباھدائہ ذٰلك الیوم للمشرکین ولو بیضۃً تعظیمًا لذٰلك۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۷۶، ۲۷۷، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔

