توہمپرستی
’’نوروز‘‘کےتہوارکااِسلامسےکچھتعلقنہیں
سوال:۔
۲۱؍مارچ کو جو ’’نوروز‘‘ منایا جاتا ہے، کیا اسلامی نقطئہ نظر سے اس کی کوئی حقیقت ہے؟ کراچی سے شائع ہونے والے روزنامے ’’ڈان گجراتی‘‘ میں نوروز کی بڑی دِینی اہمیت بیان کی گئی ہے، قرآنِ کریم کے حوالے سے اس میں بتایا گیا ہے کہ اَزل سے اب تک جتنے اہم واقعات رُونما ہوئے ہیں وہ سب اسی روز ہوئے۔ اسی روز سورج کو روشنی ملی، اسی روز ہوا چلائی گئی، اسی روز حضرت نوحؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر لنگرانداز ہوئی، اسی روز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت شکنی کی، وغیرہ وغیرہ۔ ازروئے حدیث نوروز کے اعمال بھی بتائے گئے کہ اس روز روزہ رکھنا چاہئے، نہانا چاہئے، نئے کپڑے پہننے چاہئیں، خوشبو لگانی چاہئے اور بعد نماز ظہر چار رکعت نماز نوروز دو دو رکعت کی نیت سے ادا کرنی چاہئے۔ پہلی دو رکعت کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس بار سورہ القدر، اور دُوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورۂ اِخلاص پڑھنی چاہئے۔ دُوسری دو رکعت میں سے پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورۃ الکافرون، اور دُوسری دو رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورۃ الناس اور دس مرتبہ سورۃ الفلق پڑھنی چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر دو رکعت کی پہلی رکعت میں ایک ہی سورت دس بار اور دُوسری رکعت میں دو سورتیں دس دس بار اور وہ بھی اُلٹی ترتیب سے یعنی سورۃ الناس پہلے اور سورۃ الفلق بعد میں، کیا یہ دُرست ہے؟ چونکہ یہ باتیں قرآن و حدیث کے حوالے کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، لہٰذا آپ کو زحمت دے رہا ہوں، برائے کرم بذریعہ ’’جنگ‘‘ کی آئندہ اشاعت میں اس مسئلے کی وضاحت فرماکر مشکور و ممنون فرمائیں، شکریہ۔
جواب:۔
ہماری شریعت میں ’’نوروز‘‘کی کوئی اہمیت نہیں، اور ’’ڈان گجراتی‘‘ کے حوالے سے جو لکھا ہے وہ صحیح نہیں۔ نوروز کی تعظیم مجوسیوں اور شیعوں کا شعار ہے۔(۱)
- (۱) وفی الخلاصۃ: من اھدیٰ بیضۃ الی المجوس یوم النیروز کفر، أی: لأنہ اعانہ علٰی کفرہ واغوائہ أو تشبّہ بھم فی اھدائہ ۔۔۔ وفی مجمع النوازل اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم سیرۃ حسنۃ وضعوھا کفر، أی: لأنہ استحسن وضع الکفر مع تضمن استقباحہ سیرۃ الْإسلام۔ وفی الفتاوی الصغریٰ: ومن اشتریٰ یوم النیروز شیئًا ولم یكن یشتریہ قبل ذٰلك، أراد بہ تعظیم النوروز کفر، أی: لأنہ عظّم عید الکفرۃ ۔۔۔الخ۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۲۲۹، فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۷۶، ۲۷۷)۔

