بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

توہم‌پرستی

عیدالفطر‌و‌عید‌الاضحی‌کے‌درمیان‌شادی‌کرنا

سوال:۔

میں نے اکثر لوگوں سے سنا ہے کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے درمیان شادی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ بقرعید کے بعد شادی کرنی چاہئے، اگر شادی ہوجائے تو دُولہا دُلہن سُکھ سے نہیں رہتے۔ آپ یہ بتائیں کہ یہ دُرست ہے یا غلط؟

جواب:۔

بالکل غلط عقیدہ ہے!(۱)

  1. (۱) مسئلہ: عوام میں مشہور ہے کہ دونوں عیدوں کے درمیان نکاح نہ کیا جاوے، کیونکہ میاں بیوی کا نباہ نہیں ہوتا، سو یہ خلافِ شریعت ہے۔ (اغلاط العوام ص:۱۶۴، نکاح کی اغلاط)۔ حاشیہ نمبر۲ میں ہے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اور رُخصتی دونوں عیدوں کے درمیان ماہِ شوال میں ہوا، اور جتنا عمدہ اور بہترین نباہ حضرت عائشہؓ کا ہوا، دُنیا کی کسی عورت کو بھی نصیب نہ ہوا۔ ایضاً۔